وکذٰلک یفعل بکم أیہا المعتدون، ویرحمکم أیہا الصالحون. فاصلِحوا ذات بینکم وأصلحوا ما أفسدتم، ولا تقعدوا مع الذین یستکبرون.
أ تُعجِزون ربّ السماء ببطشکم أو تخدعونہ بخدیعتکم؟ کل بل إنکم علی أنفسکم تظلمون. ولا أقول لکم عندی علم أو قوۃ. سبحان اللّہ! ما أنا إلا عبدٌ ضعیف، وأنطقنی الذی یُنطِق
نزدیک است کہ خدا ہمیں معاملہ باشما بکند اے از حد گذرندگاں۔ واے صالحان! بر شما رحم
آورد۔ اکنوں باید کہ براستی و آشتی میل آرید و درست بکنید آں چیز را
کہ تباہ کردہ اید و با گردن کشاں ہم نشینی مکنید
آیا ممکن است کہ با زور و قوت خود پروردگار آسمان راماندہ بکنید یا مے توانید
کہ او را بفریبید۔ ہرگز ممکن نیست بلکہ ستم بر جان خود مے کنید
من نہ مے گویم کہ در دست من علم و قوت است۔ سبحان اللّہ! بلکہ من
بندۂ ناتوان ہستم و مرا ہماں خدا گویا ساخت
اور خدا یہی معاملہ تمہارے ساتھ کرے گا اے حد سے بڑھ جانے والو۔ اور اے پرہیزگارو
تم پر رحم کرے گا اب چاہیے کہ سچائی اور صلح اختیار کرو اور اس چیز کو درست کرو
جسے تم نے تباہ کر دیا ہے اور مغروروں کے ساتھ نہ بیٹھو
کیا ممکن ہے کہ اپنے زور اور قوت کے ساتھ آسمان کے ربّ کو تھکا دو
بلکہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہو۔
میں نہیں کہتا کہ میرے ہاتھ میں علم اور قوت ہے۔ سبحان اللّہ! بلکہ میں
ایک عاجز بندہ ہوں اور مجھے اسی خدا نے گویائی دی