رسلَہ، فما لکم لا تفہمون؟ اترُکوا الفاتحۃ، أو اعملوا بہا حیاءً من اللّہ إن کنتم قومًا تتّقون. أتقرء ونہا وہی لا تُجاوز حناجرکم أیہا المراء ون؟ وإن المغضوب علیہم ہم الیہود الذین حذّرکم اللّہ من مضاہاتہم، الذین فَرّطوا فی أمر عیسٰی، فاسألوا أہل الذکر إن کنتم لا تعلمون. أتنتظرون من دونی مسیحًا کہ رسولان خود را گویائی بخشید۔ پس چرا نمے فہمید اکنوں یا فاتحہ را بگذارید یا شرم از خدا کردہ عمل بآں کنید اگر قومے خدا ترس ہستید۔ چیست کہ فاتحہ را مے خوانید و آں از گلوئے شما نمے گذرد اے ریاکاراں و ثابت شدہ کہ مغضوب علیہم ہماں یہود ہستند کہ خدا شما را از مشابہ گردیدن باوشاں ترسانید آناں کہ دربارہ عیسیٰ تفریط کردند پس اگر علم ندارید از اہل ذکر بپرسید۔ آیا بعد از من انتظار مسیح می کشید جس نے رسولوں کو گویائی عطا فرمائی۔ پس کیوں نہیں سمجھتے۔ اب یا تو فاتحہ کو چھوڑو یا خدا سے شرم کر کے اس پر عمل کرو۔ اگر تم خدا سے ڈرنے والی قوم ہو۔ کیا بات ہے کہ فاتحہ کو پڑھتے ہو اور وہ تمہارے گلے سے نیچے نہیں اترتی اے ریاکارو! اور ثابت ہوا کہ مغضوب علیہم وہی یہود ہیں جن کی طرح ہونے سے خدا نے تم کو ڈرایا اور جنہوں نے عیسیٰ کے بارے میں تفریط کی۔ پس اگر علم نہیں رکھتے تو علم والوں سے پوچھو۔ کیا میرے سوا ایسے مسیح کا انتظار کرتے ہو