قد اقتربت أیّام اللّہ، وإنہ یذہب بالفاسقین منکم، ویأتی بقوم یحبّہم ویحبونہ.. یذکرون اللّہ ویذکرہم، ویُتمّ علیہم کل ما وعدکم من النعم، ولا تضرّونہ شیئا، فما لکم لا تتقون؟
إن مثل نبیّنا عند اللّہ کمثل موسٰی، وإن موسٰی وعد قومًا، وأَتَمَّہ لقوم آخرین، وأہلکَ اللّہ
آباء ہم فی الفلاۃ لِما کانوا قومًا عاصین۔
ایام روزہائے خدا قریب رسیدہ و نزدیک است کہ اوکاروبار فاسقاں را سرد کند کہ
از شما سر بر آوردہ اند و قومے را بر روئے کار بیارد کہ او ایشاں را دوست دارد
و ایشاں وے را دوست دارند ایشان وے را یاد کنند واو ایشاں را یا دکند۔ وہمگی وعدہ ہائے نعمت کہ
کردہ است در حق ایشاں با تمام رساند و شما ہیچ ضررے باو نتوانید رسانید پس چرا نمے ترسید
البتہ مثل نبی ما نزد خدا مثل موسیٰ است و شما مے دانید کہ
موسیٰ با قومے وعدہ کرد دلے آں وعدہ را در حق قوم دیگر با تمام رسانید و خدا
پدران ایشاں را در دشت نابود کرد زیرا کہ نا فرمان بودند
خدا کے دن قریب آگئے ہیں اور قریب ہے کہ وہ ان فاسقوں کی رونق بازار سرد کر دے جو تم میں سے
ہیں۔ اور ایسی قوم پیدا کرے کہ وہ ان سے محبت کرے اور وہ اس سے محبت کریں۔ وہ اسے یاد کریں اور وہ
ان کو یاد کرے اور نعمت کے سارے وعدے جو اس نے تم سے کئے ہیں ان کے حق میں پورا کرے
اور تم اسے کچھ ضرور نہیں پہنچا سکتے پس کیوں نہیں ڈرتے۔
خدا کے نزدیک ہمارے نبی صلی اللّہ علیہ و سلم موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہیں اور تم جانتے ہو کہ موسیٰ
نے ایک قوم کے ساتھ وعدہ کیا لیکن اس وعدہ کو دوسری قوم کے حق میں پورا کیا اور خدا نے
ان کے باپوں کو میدان میں ہلاک کیا کیونکہ نافرمان قوم تھی۔