فأین تفرّون؟ وما کفَر الیہود بالمسیح إلا لِزعمہم أنہ خالفَ عقیدتہم وما جاء کَمَا کانوا یترقّبون، ولِزعمہم أنہ لیس من بنی إسرائیل وخانتْ أُمُّہ فغضِب اللّہ علیہم فہلک القوم المفسدون۔ فاذکروا الفاتحۃ التی تقر ء ونہا فی کل رکعۃ ولیست الصلاۃ إلا بالفاتحۃ، فاحملوا ما حُمّلتم فیہا ولا تکونوا کالذین یقولون ولا یفعلون۔ و راہ گریز بر شما بند گردیدہ۔ یہود کفر با مسیح بایں گمان کردند کہ او خلاف عقیدہ ہائے اوشاں کرد و بہ آں طریق نیامد کہ او شاں امید و انتظار مے داشتند و نیز بہ ایں گمان کہ او از بنی اسرائیل نیست و مادرش خیانت کردہ ازیں سبب خدا بر ایشاں خشمناک شد پس آں تبہ کاران ہلاک گردیدند اکنوں آں فاتحہ را کہ در ہر رکعت مے خوانید یاد بکنید و ہیچ نماز غیر از فاتحہ راست نمی آید پس بر دوش خود ببردارید آنچہ خدا در فاتحہ بر شما بار کرد و مانند آناں مشوید کہ مے گویند و نمی کنند اور بھاگنے کی راہ تم پر بند ہوئی۔ یہودیوں نے مسیح کے ساتھ کفر اس گمان سے کیا کہ اس نے ان کے عقیدوں کے خلاف کیا اور اس طرح سے نہیں آیا جیسا کہ ان کو امید اور انتظار تھا اور اس گمان سے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں اور اس کی ماں نے خیانت کی ہے خدا ان پر غضبناک ہوا پس یہ مفسد قوم ہلاک ہو گئی اب اس فاتحہ کو جسے ہر رکعت میں پڑھتے ہو یاد کرو اور کوئی نماز فاتحہ کے بغیر درست نہیں ہوتی۔ پس اب اپنی پیٹھ پر اٹھاؤ جو خدا نے تم پر فاتحہ میں ڈالا اور ان کی طرح نہ ہو جاؤ جو کہتے ہیں اور نہیں کرتے