فی أمرہ، وہذان اسمان متقابلان أیّہا الناظرون۔ ثم خوّفکم اللّہ أن تکونوا کمثلہم فیحلّ الغضب علیکم کما حلّ علی أعداء المسیح ومسَّہم ***ُہ المذکورۃ فی القرآن، وفی ہذہ تنبیہ لکم أیہا المنکرون. وما ألزمَکم اللّہ قراء ۃَ الفاتحۃ فی کل رکعۃ إلا لہذا الغرض أیہا العاقلون. فلا تُلقوا معاذیرکم، وقد تمّت حُجّۃ اللّہ علیکم تفریط کردند و ایں دو نام مقابل یکد گر واقع شدہ اند باز خدا شمارا بترسانید ازیں کہ مثل ایشاں بشوید و در نتیجہ ہمچناں غضب بر شما فرود آید کہ بردشمنان مسیح فرود آمد و آں *** وے لازم حال شاں شد کہ در قرآن مذکور است۔ و دریں بیان اے منکران برائے شما آگاہی خوب است۔ و غرض خداوندی از لازم گردانیدن فاتحہ در ہر رکعت ہمیں بودہ است اکنوں بہانہ مے انگیزید وحجۃاللہ بر شما تمام شدہ۔ تفریط کی اور یہ دو نام ایک دوسرے کے مقابل پر واقع ہوئے ہیں۔ پھر خدا نے تم کو اس بات سے ڈرایا کہ تم ان کی طرح ہو جاؤ اور انجام کار ویسا ہی غضب تم پر اترے جیسا کہ مسیح کے دشمنوں پر نازل ہوا اور وہ *** ان کے شامل حال ہوئی جس کا قرآن میں ذکر ہے اور اے منکرو اس بیان میں تمہارے لئے تنبیہ ہے اور ہر رکعت میں فاتحہ کے لازم کرنے سے خدا تعالیٰ کی غرض یہی ہے۔ اب بہانہ بناتے ہو اور خدا کی حجت تم پر تمام ہوئی