سمّاہم اللّہ المغضوب علیہم فی الفاتحۃ ہم الیہود الذین کذّبوا المسیح وأرادوا أن یصلبوہ ویعلمہ العالمون. وإنّ لفظ:الضَّالِّینَ الذی وقع بعد ’’الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ ‘‘ قرینۃ قطعیۃ علی ہذا المعنی ولا یرتاب فیہ إلا الجاہلون. فإن الضّالین قومٌ أفرطوا فی أمر عیسٰی، فثبت من ہذا أن المغضوب علیہم قوم فرّطوا در فاتحہ خدا اوشاں را مغضوب علیہم گفتہ ہماں یہود ہستند کہ تکذیب مسیح کردند و خواستند کہ او را بر دار بکشند۔ و لفظ ضالین کہ با مغضوب علیہم واقع شدہ بر ایں معنٰی قرینہ یقینیہ مے باشد کہ غیر از جاہلے دراں شک نمے کند چہ کہ ضالین آں کساں ہستند کہ دربارہ عیسٰی افراط کردند ازیں جا ثابت شد کہ مغضوب علیہم آں کساں ہستند کہ دربارہ وے خدا نے فاتحہ میں مغضوب علیہم کہا ہے وہی یہودی ہیں جنہوں نے مسیح کی تکذیب کی اور چاہا کہ اسے سولی دیں۔ اور ضالین کا لفظ جو مغضوب علیہم کے بعد واقع ہؤا ان معنوں پر یقینی قرینہ ہے۔ اس پر جاہل کے سوا کوئی شک نہیں لاتا کیونکہ ضالین وہ لوگ ہیں جنہوں نے عیسیٰ کے بارہ میں افراط کیا۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ مغضوب علیہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کی نسبت