وقبِلوہ بصدق الطویّۃ والجَنان.. أعنی المسیحَ الذی خُتِمَتْ علیہ ہذہ السلسلۃ، وہو المقصود الأعظم من قولہ أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ کما تقتضی المقابلۃ ولا ینکرہ المتدبّرون۔ فإنّہ إذا عُلِمَ بالقطع والیقین والتصریح والتعیین أن المغضوبَ علیہم ہم
الیہود الذین کفّروا المسیح وحسبوہ من الملعونین
کما یدل علیہ قرینۃ قولہ الضَّالِّینَ
او را پذیرفتند یعنی آں مسیح را
کہ بروے ایں سلسلہ ختم شد۔ و ہماں مقصود
اعظم از انعمت علیہم ہست چہ کہ مقابلہ اقتضائے ہمیں معنٰی
مے کند۔ و تدبر کنندہ نمے تواند کہ انکار بر ایں معنٰی کند
مغضوب علیہم
ہماں یہود ہستند کہ مسیح را بکفر نسبت دادند و ملعونش
پنداشتند چنانچہ قرینہ قول الضالین بر ایں دلالت مے کند
اس کو قبول کیا یعنی اس مسیح کو
جس پر یہ سلسلہ ختم ہوا اور انعمت علیہم سے وہی مقصود اعظم
ہے کیونکہ مقابلہ اسی کا مقتضی ہے
اور تدبر کرنے والے اس کا انکار نہیں کر سکتے۔
مغضوب علیہم
وہی یہودی ہیں جنہوں نے مسیح کو کافر کہا اور اس کو
ملعون جانا جیسا کہ الضالین کا لفظ اس پر دلالت کرتا ہے۔