المرادعیسَی المسیحُ الذی خُتِمَتْ علیہ تلک السلسلۃ وانتقلت النبوّۃ، وسُدَّ بہ مجری الفیض کأنہ العَرِمۃ، وکأنہ لہذا الانتقال العلَمُ والعلامۃ أو الحشر والقیامۃ، کما أنتم تعلمون.
وکذالک المراد من أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ فی ہذہ الآیۃ ہو سلسلۃ أبدال ہذہ الأُمّۃ الّذین
صدّقوا مسیح آخر الزمان، وآمنوا بہ
مراد از لفظ انعمت علیہم عیسیٰ مسیح است کہ بروے آں سلسلہ بانجام
رسید و از وجود او چشمہ فیض بند شد
چنانکہ گویا وجود او برائے ایں انتقال
یک نشانے یا حشرے و قیامتے بود
و ہمچنیں مراد از انعمت علیہم
سلسلہ ابدالانِ ایں امت است
کہ تصدیق مسیح آخرزمان کردند و بصدق دل
مراد لفظ انعمت علیہم سے عیسیٰ مسیح ہے جس پر وہ سلسلہ
ختم ہوا اور اس کے وجود سے فیض کا چشمہ بند ہو گیا
گویا کہ اس کا وجود اس انتقال کے لئے
ایک نشانی یا حشر اور قیامت تھا
اور اسی طرح انعمت علیہم سے
اس امت کے ابدالوں کا سلسلہ مراد ہے
جنہوں نے مسیح آخرالزمان کی تصدیق کی اور صدق دل سے