فلا یستقیم الترتیب ولا یحسُن نظام کلام الرحمٰن إلا بأن یُعنٰی من أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ مسیحَ آخر الزمان، فإن رعایۃ المقابلۃ مِن سُنن القرآن ومن أہمّ أمور البلاغۃ وحسن البیان، ولا ینکرہ إلا الجاہلون. فظہر من ہذا المقام بالظہور البیّن التامّ أنہ مَن قرأ ہذا الدعاء فی
صلا تہ أو خارجَ الصلاۃ فقد سأل ربّہ أن
بنا براں ترتیب راست نمے آید و نظام کلام قرآنی درست
نمے گردد بجز اینکہ از انعمت علیہم مسیح آخر الزمان مراد
گرفتہ شود زیرا کہ از عادت قرآن است کہ رعایت مقابلہ را نگاہ مے دارد
و نیز رعایت مقابلہ از بزرگترین امور بلاغت و حسن بیان مے باشد و
بغیر از جاہلے ہیچ کس انکار بریں معنیٰ نمے کند ازیں مقام نیکو آشکار شد
کہ ہر کہ در نماز یا بیرون از نماز
ایں دعا را بخواند او البتہ از پروردگار سوال مے کند کہ
اس لئے ترتیب ٹھیک نہیں بیٹھتی اور قرآن کے کلام کا نظام
درست نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ انعمت علیہم سے آخر زمانہ کا مسیح مراد
لیا جائے کیونکہ قرآن شریف کی عادت ہے کہ مقابلہ کی رعایت رکھتا ہے
اور مقابلہ کی رعایت رکھنا اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور حسن بیان میں داخل ہے اور
جاہل کے سوا کوئی اس معنے سے انکار نہیں کرتا۔ اس مقام سے اچھی طرح معلوم ہوا
کہ جو کوئی نماز میں یا نماز سے باہر اس
دعا کو پڑھتا ہے وہ اپنے پروردگار سے سوال کرتا ہے کہ