قولہ الضَّالِّینَ النصاری الذین أفرطوا فی أمر عیسٰی وأَطرَء وہ وقالوا إن اللّہ ہو المسیح وہو ثالث ثلاثۃ یعنی الثالث الذی یوجد فیہ الثلاثۃ کما ہم یعتقدون. والمراد من قولہ:أَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ہم النبیون والأخیار الآخرون من بنی إسرائیل الذین صدّقوا المسیح وما فَرّطوا فی أمرہ وما أفرطوا بأقاویل، وکذالک
ضالین نصاریٰ ہستند کہ دربارہ عیسیٰ از حد
دور گذشتند و گفتند کہ خدا ہماں مسیح است و
او ثالث ثلاثہ یعنی آں سوم است کہ آں ہر سہ در وجود وے
موجود ہستند و مراد از
انعمت علیہم آں انبیا و برگزیدگاں آخری
از بنی اسرائیل ہستند کہ تصدیق مسیح کردند و
دربارہ او تقصیرے نہ نمودند و باگفتار ہا در حق آں مسیح افراط نہ کردند۔ و ہم چنیں
ضالین سے مراد نصاریٰ ہیں جو عیسیٰ علیہ السلام کے بارہ میں
حد سے گذر گئے اور کہا کہ مسیح ہی خدا ہے
اور وہ تین میں سے ایک ہے ایسا کہ دونوں اس کے وجود میں موجود ہیں
اور
انعمت علیہم سے وہ انبیاء اور بنی اسرائیل کے آخری برگزیدے
مراد ہیں جنہوں نے مسیح کی تصدیق کی اور
اس کے بارہ میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور باتوں سے اس مسیح کے حق میں زیادتی نہیں کی اور اسی طرح