إن إنکار المأمورین شیء عظیم، ومن حاربہم فقد ألقٰی نفسہ فی الجحیم، فلا خیر فی ہذہ الحرب أیہا المحاربون. وأنتم تقرء ون فی الفاتحۃ ذِکر قوم غضب اللّہ علیہم بما کفروا بالمسیح عیسی ابن مریم وکفّروہ وآذوہ وحقّروہ وأسروہ وأرادوا أن یصلبوہ لیحسب النّاس أنہ أشقی الناس والملعون، ففَکِّروا نیکو بدانید کہ انکار ماموران امر است بس بزرگ و آنکہ با اوشاں جنگ کرد بالیقین خود را ہیزم دوزخ بگردانید دریں جنگ اے جنگ کنندگان برائے شما ہیچ بہبود نیست۔ شما در فاتحہ ذکر آں قوم مے خوانید کہ خدا بر سر اوشاں غضب فرود آورد بسبب آنکہ مسیح ابن مریم را کفر کردند و رنجانیدند و ہیچ داشتند و گرفتار ساختند و خواستند کہ بردارش کشند بجہت آنکہ مردم او را ملعون و بدبخت بہ پندارند۔ باید کہ خوب جان لو کہ ماموروں کا انکار بڑی بھاری بات ہے اور جو ان سے لڑا یقیناًاپنے آپ کو دوزخ کا کندا بنایا۔ اے لڑنے والو! اس لڑائی میں تمہارے لئے کوئی بہتری نہیں۔ تم سورۃ فاتحہ میں اس قوم کا ذکر پڑھتے ہو جن پر خدا کا غضب اس لئے اترا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کا کفر کیا اور اس کو حقیر جانا اور ستایا اور پکڑوایا اور چاہا کہ سولی دیں اس لئے کہ لوگ اسے ملعون اور بدبخت جانیں۔ چاہے کہ