فی أُمّ الکتاب حقّ الفکر.. لِمَ حذَّرکم اللّہ أن تکونوا المغضوبَ علیہم، ما لکم لا تفکّرون؟ فاعلموا أن السرّ فیہ أنّ اللّہ کان یعلم أنہ سوف یبعث فیکم المسیح الثانی کأنہ ہو، وکان یعلم أن حزبًا منکم یکفّرونہ ویکذّبونہ ویحقّرونہ ویشتمونہ ویریدون أن یقتلوہ ویلعنونہ، فعلَّمکم ہذا الدعاء رُحمًا علیکم در ام الکتاب نیکو اندیشہ بفرمائید کہ چرا خدا شمارا بترسانید ازیں کہ مغضوب علیہم بگردید۔ بدانید کہ دریں ایں راز بودہ است کہ خدا مے دانست کہ مسیح ثانی درمیان شما پیدا شود و گویا او ہماں باشد و نیز خدا مے دانست کہ گروہے از شما وے را بکفر و کذب نسبت خواہند داد ویرا دشنام دہند و حقیر بدارند و ارادہ قتل او کنند و بروئے *** کنند پس از کمال رحم و برائے ام الکتاب میں خوب غور کرو کہ کیوں تم کو خدا نے اس سے ڈرایا کہ تم مغضوب علیہم ہو جاؤ۔ جان لو کہ اس میں یہ راز تھا کہ خدا جانتا تھا کہ مسیح ثانی تم میں پیدا ہو گا اور گویا وہ وہی ہو گا اور خدا جانتا تھا کہ ایک گروہ تم میں سے اس کو کافر اور جھوٹا کہے گا اسے گالیاں دیں گے اور حقیر جانیں گے اور اس کے قتل کا ارادہ کریں گے اور اس پر *** کریں گے۔ پس اس نے رحم کر کے اور اس