توبۃً نَصوحًا لعلکم تُرحَمون. وقال ربّی: "إِنَّ اللّہَ لا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّی یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِہِمْ. إِنَّہُ أَوَی الْقَرْیَۃَ"، یعنی من دخلہا کان آمِنًا، وأخاف علی الذین لا یخافون اللّہ ولا ینتہون. فقُوموا من مواضعکم خاشعین، واسجدوا توّابین وکونوا لنفوسکم ناصحین وفَکِّروا مرتعدین، ولا تکونوا کالذین یفسقون وہم یضحکون.
بجا آرید تا بر شما رحم آورند۔ و پروردگار مرا فرمود کہ ہر آئینہ خدا
حالت ہیچ قومے را تغییر نہ مے کند تا وقتے کہ ایشاں حالت اندرون خود را تبدیل نسازند۔ ہر آئینہ
خدا ایں دہ را در پناہ خود در آورد بایں معنی کہ ہر کہ دراں داخل شد ایمن گردید۔ و من بر جان آناں
مے لرزم کہ از خدا نمے ترسند و از سیاہ کاری باز نمے آیند۔ اکنوں باید کہ
از جاہائے خود با عجز و نیاز برخیزید و با توبہ سجود بکنید
و غمخواری جان خود بنمائید و با اندیشہ و بیم ناکی فکر بکنید
و مانند آناں مشوید کہ فسق مے ورزند و خندہ مے زنند
کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔ اور خدا نے مجھے فرمایا کہ خدا
کبھی کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ خود وہ لوگ اپنی اندرونی حالت کو تبدیل نہ کریں۔ اور
سچ مچ خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لیا ہے۔ یعنی جو کوئی اس میں داخل ہوا وہ سلامت رہا۔ ہاں
مجھے ان کا فکر ہے جو خدا سے نہیں ڈرتے اور سیاہ کاری سے باز نہیں آتے۔ اب چاہیے کہ
اپنی جگہوں سے عاجزی سے اٹھو اور توبہ کے ساتھ سجدے کرو
اور اپنی جان کا فکر کرو۔ اور سوچ اور خوف کے ساتھ فکر کرو
اور ان کی طرح نہ ہو جاؤ جو فاسق ہیں اور ٹھٹھے مارتے ہیں