فی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّہُمْ مُغْرَقُونَ. إِنَّ الَّذِینَ یُبَایِعُونَکَ إِنَّمَا یُبَایِعُونَ اللّہَ یَدُ اللہِ فَوْقَ
أَیْدِیہِمْ"، وقد أشعتُ ہذا الوحی من سنین، ویعلمہ المحبّون والمعادون. واللّہُ یأتی الأرض ینقُصہا من أطرافہا، فتوبوا إلی اللّہ أیہا الغافلون۔ولا تفرّطوا فی حقوق اللّہ وعبادہ،
ولا تکونوا من الذین یظلمون، وتوبوا
نزد من شفاعت میار کہ ظلم را عادت مستمرہ خود گرفتہ اند چرا کہ اوشاں پیش ازاں کہ غرق شوند غرق اند
یعنی در معاصی آناں کہ دست در دست تو مے دہند اوشاں دست در دست خدا مے دہند۔ دست خدا
بالائے دست اوشاں است۔ سالہا مے گذرد کہ اشاعت ایں وحی کردہ ام
چنانچہ دوست و دشمن بر ایں آگاہ است۔ و خدا روز بروز زمین را
از اطرا فش کم ہمے کند بایں معنٰی کہ فوج فوج مر دم از ہر سو مے آیند۔ پس اے غافلاں بسوئے خدا
رجوع بکنید و درحق خدا و بندگان وے ستمگری و بیداد
مورزید و توبہ نصوح
پیش نہ کر جنہوں نے تمام زندگی کے لئے ظلم کرنا اپنا اصول بنا لیا ہے کیونکہ وہ تو غرق ہونے سے پہلے ہی گناہوں میں غرق ہیں اور جو لوگ تیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہیں وہ خدا کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں۔ خدا کا ہاتھ ان کے ہاتھ کے اوپر ہے۔ برسوں ہوئے کہ اس وحی کی میں نے اشاعت کی ہے
جیسا کہ دوست اور دشمن سب اسے جانتے ہیں اور خدا دن بدن زمین کو اس کی طرفوں سے
اس طرح پر کم کرتا چلا جاتا ہے کہ فوج در فوج لوگ ہر طرف سے آرہے ہیں۔ پس اے غافلو! خدا کی طرف
رجوع کرو اور خدا کے اور اس کے بندوں کے حق میں ظلم اور ستم
نہ کرو۔ اور توبہ نصوح