إن کنتم تعرفون. أتعجبون أن یسمّی اللّٰہ بعضکم یہودیا وبعضکم نصرانیا وبعضکم عیسٰی؟ فلا تکذّبوا کلام اللّہ وفَکِّروا فیما أومیٰ، وانظروا حق النظر أیہا المخطؤن.
أم یقولون إنا لا نری ضرورۃ مسیح ولا مہدی وکفانا القرآن وإنا مہتدون. ویعلمون أن القرآن کتابٌ 3 ۱. فاشتدّت الحاجۃ
آیا عجب مے دارید ازیں کہ خدا بعضے را
از شما یہودی نام بنہد و بعضے را نصرانی نام گزارد و بعضے را
بنام عیسیٰ یاد بفرماید۔ پس تکذیب کلام خدا نکنید و در آنچہ ایما فرمودہ فکر بکنید
و حقِ اندیشہ کردن بجا آرید بلکہ مے گویند
کہ ما ہیچ احتیاج و ضرورت بمہدی و مسیح نداریم بلکہ قرآن برائے ما بس است
و ما راست رو ہستیم حالانکہ مے دانند کہ قرآن کتابے است کہ
بجز از پاکاں دستِ فہم کسے بوے نہ مے رسد ازیں جاست کہ حاجت
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہے کہ خدا تم میں سے
بعض کا نام یہودی رکھے اور بعض کا نام نصرانی اور بعضوں کو
عیسیٰ کے نام سے یاد فرماوے۔ پس خدا کے کلام کی تکذیب نہ کرو اور جس بات کا اشارہ کیا اس میں فکر کرو
اور خوب سوچو۔ کہتے ہیں کہ
ہم کو مسیح اور مہدی کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ قرآن ہمارے لئے کافی ہے
اور ہم سیدھے راستے پر ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ قرآن ایسی کتاب ہے کہ
سوائے پاکوں کے اور کسی کی فہم اس تک نہیں پہنچتی۔ اس وجہ سے ایک ایسے