إلی مفسِّر زُکِّیَ مِن أیدی اللّہ وأُدخِلَ فی الذین یُبْصرون. وَیْحکم! کیف تکذّبون کتاب اللہ وتکفرون بنبأہ؟ أیأمرکم إیمانکم أن تکفروا بأنباء اللّہ إن کنتم تؤمنون؟ وقد خلت قوم من قبلکم ظنوا کظنکم فی رسلہم، فبلّغوا التکذیب والإہانۃ منتہاہا وکانوا یعتدون، فأقبلَ المأمورون علی ربہم واستفتحوا، فخاب الذین بمفسرے افتاد کہ دستِ خدا او را پاک کردہ و در بینایان داخل کردہ باشد وائے بر شما چگونہ کتاب خدا را تکذیب مے کنید و برپیشگوئی وے ایمان نمے آرید۔ آیا ایمان شما شما را امر مے کند کہ کفر بہ پیشگوئی ہائے خدا بکنید شما مے دانید کہ پیش از شما قومے بودند کہ ہمیں گمان بد کہ شما مے کنید اوشاں دربارہ رسولانِ خود کردند و تکذیب و اہانت را از حد گزرانیدند آخر ماموراں برآستانۂ ایزدی بیفتادند وبر حضرت وے سر عجز وصدق نہادند۔ و از جناب وے فیصلہ درخواستند مفسر کی حاجت پڑی کہ خدا کے ہاتھ نے اسے پاک کیا ہو اور بینا بنایا ہو افسوس تم پر کس طرح خدا کے کتاب کی تکذیب کرتے ہو اور اس کی پیشگوئی پر ایمان نہیں لاتے۔ کیا تمہارا ایمان تم کو حکم دیتا ہے کہ خدا کی پیشگوئیوں کے ساتھ کفر کرو۔ تم جانتے ہو کہ تم سے پہلے ایسی قوم تھی کہ یہی برا گمان جو تم کرتے ہو اپنے رسولوں کی نسبت کیا اور تکذیب اور اہانت کو حد سے گذار دیا۔ آخر مامور لوگ آستانہ احدیّت پر گر پڑے اور اس کی جناب میں عجز اور صدق کا سر رکھ دیا اور اس سے فیصلہ چاہا۔ پس وہ لوگ