الفاتحۃ قد بیّنت أن ہذہ الأمّۃ امّۃ وسط مستعدّۃ لأن تترقّی، فیکون بعضہم کنبیٍّ من الأنبیاء ، ومستعدّۃ لأن تتنزّل فیکون بعضہم یہودًا ملعونین کقردۃ البیداء ، أو یدخلون فی الضالین ویتنصّرون. وکفاک ہذا الدعاءُ الذی تقرأہ فی صلواتک الخمس إن کنتَ من الذین یطلبون الحق وإلیہ یحفِدون۔ سورہ فاتحہ آشکار مے کند کہ ایں امت امت وسط است و برائے ترقیات آنچناں استعداد دارد کہ ممکن است کہ بعضے از یشاں مانند انبیاء بشوند و ہم استعداد دارد کہ آنقدر پست و متنزل بشود کہ بعضے از ایشاں یہود و مانند بوزنگاں دشت ملعون بگردند یا در گمراہان داخل و نصرانی بشوند۔ و ترا ایں دعا کہ در نماز پنجگانہ میخوانی بس است اگر طلب حق در دل تست سورہ فاتحہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ امت امتِ وسط ہے اور ترقیات کے لئے ایسی استعداد رکھتی ہے کہ ممکن ہے کہ بعض ان میں سے انبیاء ہو جائیں اور یہ بھی استعداد اس میں ہے کہ یہاں تک پست اور متنزل ہو جائے کہ بعض ان میں سے یہودی اور جنگل کے بندروں کی طرح *** ہو جائیں یا گمراہ ہو جائیں اور نصرانی ہو جائیں۔ اور تیرے لئے یہ دعا جو تو پانچ وقت نماز میں پڑھتا ہے کافی ہے اگر حق کی طلب تیرے دل میں ہے