والشأن من عند غیر اللّہ لمزَّق کلَّ ممزَّق ولجمَع علینا لعنۃَ الأرض ولعنۃ السماء ولأفاز اللّہ أعدائی بکلّ ما یریدون. کلّا بل إنہ وعدٌ من اللّہ وقد تمّ صدقا وحقّا، وإنّہ بُشرٰی للّذین کانوا ینتظرون. وقد رُفِعَ قضیتنا إلی اللّہ وإن حزبنا أو حزبکم سیُنصَرون أو یُخذَلون. فحاصل الکلام فی ہذا المقام أن از طرف خدا نبودے البتہ ایں کارخانہ درہم برہم گردیدے و برما *** زمین و آسمان جمع شدے و دشمنان در ہر ارادۂ خود کامیاب شدندے ہرگز چنیں نیست بلکہ ایں سلسلہ از خدا موعود بود کہ از صدق و حق باتمام رسیدہ۔ و مژدہ برائے آناں است کہ انتظار مے کشیدند اکنوں ایں قضیّۂ ما در محکمہ خدا مرفوع شدہ است والبتہ نزدیک است کہ نصرت و غلبہ یا شکست گروہ شما را دست دہد یا مارا میسر آید۔ غرض خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو البتہ یہ کارخانہ تباہ ہو جاتا اور ہم پر زمین و آسمان کی *** جمع ہو جاتی اور دشمن اپنے ہر ارادہ میں کامیاب ہو جاتے ہرگز ایسا نہیں بلکہ اس سلسلہ کا خدا کی طرف سے وعدہ دیا گیا تھا جو سچے طور سے پورا ہو گیا اور خوشخبری ان کے لئے ہے جو انتظار کرتے تھے اب ہمارا یہ مقدمہ خدا کی کچہری میں پہنچ گیا ہے۔ اور قریب ہے کہ تمہاری فتح ہو یا تمہیں شکست ہو۔ غرض