وأنا المسیح الموعود الذی قُدّر مجیءُہ فی آخر الزمان من اللّہ الحکیم الدیّان، وأنا المنعَم علیہ الذی أُشیرَ إلیہ فی الفاتحۃ عند ظہور الحزبین المذکورین وشیوع البدعات والفتن فہل
أنتم تقبلون؟ وإن إنکاری حسراتٌ علی الذین کفروا بی، وإن إقراری برکاتٌ للذین
یترکون الحسد ویؤمنون. ولو کان ہذا الأمر
و من ہماں مسیح موعود ہستم کہ آمدنش در آخر زمان
از طرف خدا مقدر بود و من
آں منعم علیہ ہستم کہ بسوئے او در فاتحہ وقت ظہور آں
دو گروہ اشارت رفتہ و پراگندہ شدن بدعات و فتنہ ہا
پس آیا شما قبول مے کنید۔ و انکار من بر منکراں سبب
حسرت ہاست و اقرار من برائے آناں کہ
حسد را ترک مے کنند و ایمان مے آرند باعث برکات است و اگر ایں امر
اور میں وہی مسیح موعود ہوں جس کا آنا آخر زمانہ میں
خدا کی طرف سے مقدر تھا اور میں
وہ منعم علیہ ہوں کہ اس کی طرف فاتحہ میں ان دو گروہوں کے ظہور کے وقت
اشارہ تھا اور بدعتوں اور فتنوں کے پھیل جانے کی طرف اشارہ
کیا گیا ہے۔ پس کیا تم قبول نہیں کرو گے۔ اور میرا انکار منکروں پر حسرت
کا سبب ہے اور میرا اقرار ان کے لئے
جو حسد کو چھوڑتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں برکتوں کا باعث ہے اور اگر یہ امر