فأراد اللّہ أن یُتمّ النبأ ویُکمِل البناء باللبنۃ الأخیرۃ، فأنا تلک اللبنۃ أیہا الناظرون. وکان عیسٰی عَلَمًا لبنی إسرائیل وأنا عَلَمٌ لکم أیہا المفرطون. فسارِعوا إلی التوبۃ أیہا الغافلون. وإنّی جُعِلْتُ فردًا أکمَلَ من الذین أُنعِمَ علیہم فی آخر الزمان، ولا فخر ولا ریاء ، واللّہُ فعَل کیف أراد وشاء ، فہل أنتم تحاربون اللّہ وتزاحمون. پس خدا ارادہ کرد کہ پیشگوئی را بکمال رساند و بخشت آخری بنا را تمام کند۔ پس من ہماں خشت ہستم و چنانچہ عیسیٰ نشانے برائے بنی اسرائیل بود ہمچناں من برائے شما اے تبہ کاران یک نشان ہستم پس اے غافلان بسوئے توبہ بشتابید و من از گروہ منعم علیہم فرد اکمل کردہ شدم و ایں از فخر و ریا نیست و خدا چنانکہ خواست کرد پس آیا شما باخدا جنگ و پیکار مے کنید پس خدا نے ارادہ فرمایا کہ اس پیشگوئی کو پورا کرے اور آخری اینٹ کے ساتھ بنا کو کمال تک پہنچا دے۔ پس میں وہی اینٹ ہوں اور جیسا کہ عیسیٰ بنی اسرائیل کے لئے نشان تھا ایسا ہی میں تمہارے لئے اے تبہ کارو ایک نشان ہوں۔ پس اے غافلو! توبہ کی طرف جلدی کرو۔ اور میں منعم علیہم گروہ میں سے فرد اکمل کیا گیا ہوں اور یہ فخر اور ریا نہیں۔ خدا نے جیسا چاہا کیا۔ پس کیا تم خدا کے ساتھ لڑتے ہو