بابن مریم وھم یختصمون۔ وکذالک زعموا
کفر ابن مریم کردند و ہنوز جنگ مے کنند و ہم چنیں گمان کردند
ابن مریم کا انکار کیا اور اب بھی یہی کہتے ہیں۔ اور اسی طرح گمان کیا
انّ مثیل موسٰی من بنی اسرائیل فلمّا بعث
کہ مثیل موسیٰ از بنی اسرائیل خواہد بود مگر ہر گاہ آں موعود
کہ مثیل موسیٰ بنی اسرائیل میں سے ہوگا مگر جس وقت وہ موعود
من بنی اسماعیل کفروا بہٖ والٰی یومنا ھٰذا
از بنی اسماعیل پیدا شد باو کفر کردند و تا امروز
بنی اسماعیل میں سے پیدا ہوا اس کو نہ مانا اور اب تک
لایؤمنون فتلک سنّۃٌ مّن سنن اللّٰہ انّہٗ
ایمان نمے آرند۔ از عادات خداست کہ
نہیں مانتے۔ خدا کی عادتوں میں سے ایک یہ عادت ہے کہ
یری بعض اجزاء نبأہٖ ویُخفی البعض فالّذین
بعض اجزائے پیشگوئی را ظاہر مے کند و بعضے را پوشیدہ می دارد۔ پس آنا نکہ
پیشگوئی کے بعض اجزاکو ظاہر کر دیتا ہے اور بعض کو مخفی رکھتا ہے پس جن لوگوں کے
فی قلوبھم زیغٌ یجعلون ما اختفی متّکأً لانکارھم
دلہائے اوشاں کج مے باشند حصہ پوشیدہ را برائے انکار خود سند مے گیرند
دل ٹیڑھے ہوتے ہیں مخفی حصہ کو اپنے انکار کے لئے سند پکڑتے ہیں
وھم عمّا ظھر یعرضون۔ ولایتفکّرون لعلّہٗ
و از آنچہ ظاہر شدہ رومے گردانند و فکرنمے کنند کہ شاید آں
اور جو حصّہ ظاہر ہوا اس سے منہ پھیرتے ہیں اور فکر نہیں کرتے کہ شاید وہ