مّن اللّٰہ فلا تحسبوا وعد اللّٰہ کموا عید قومٍ یکذبون۔
از خدا بود پس وعدہ خدا را مانند وعدہ ہائے دروغگویاں گمان نکنید
وعدہ تھا پس خدا کے وعدہ کو جھوٹوں کے وعدوں کی طرح نہ سمجھو۔
وکیف یتمّ وعد اللّٰہ من دون ان یظھر المسیح
وچگونہ وعدۂ خدا تمام شود بدون آنکہ مسیح از شما ظاہر شود
اور خدا کا وعدہ کس طرح پورا ہو بغیر اس کے کہ مسیح تم میں سے ظاہر ہو
منکم مالکم لا تفکرون فی اٰیات اللّٰہ ولا
چرا در آیات خدا فکر و تدبر نمے کنید
کیوں خدا کی آیتوں میں فکر اور تدبر نہیں کرتے
تتدبرون۔ أَیَلِیْقُ بشان اللّٰہ ان یعدکم انّہٗ
آیا سزاوار شان خداوندی است کہ باشما وعدہ کند
کیا خدا کی شان کے لائق ہے کہ تم سے وعدہ کرے
یبعث الخلفاء منکم کمثل الذین خلوا من قبل
کہ خلفاء از میان شما پیدا کند مانند آناں کہ از پیش گذشتند
کہ خلیفے تم میں سے پیدا کرے گا ان کی مانند جو پہلے گذرے
ثم ینسٰی وعدہٗ وینزل عیسٰی من السّماء
باز وعدۂ خود را فراموش کند و عیسیٰ را از آسمان فرود آرد
پھر اپنے وعدہ کو بھول جائے اور عیسیٰ کو آسمان سے اتارے
سبحانہٗ وتعالٰی عمّا تفترون۔ فمالکم انّکم
خدا تعالیٰ ازیں افتراہائے شما بزرگ و بلند تراست چرا درحق
خدا تعالیٰ تمہارے ان افتراؤں سے پاک اور برتر ہے کیوں