القراٰن وخلیفۃٌ ینادی الی الرحمٰن خَرّوا علی و خلیفہ را مے بینند کہ سوئے خدا دعوت مے کند سجدہ کناں اور خلیفہ کو دیکھتے ہیں جو خدا کی طرف بلاتا ہے تو سجدہ کرتے ہوئے الاذقان سُجّدًا وعلٰی ما فرطوا یتندمون۔ بر روہا مے افتند و بر قصورہائے خویش پشیمان مے شوند اوندھے گر پڑتے ہیں اور اپنے قصوروں پر پشیمان ہوتے ہیں و ترٰی اعینھم تفیض من الدمع بما عرفوا الحق و مے بینید کہ چشمہائے اوشاں ازشناخت حق سرشک رواں مے کنند اور دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھیں حق کے پہچاننے پر آنسو بہاتی ہیں وتنزل السکینۃ فی قلوبھم ویؤمنون بما انزل وسکینت برقلوب ایشاں نازل مے شود و بر نازل کردہ خدا ایمان مے آرند اور ان کے دل سکینت حاصل کرتے ہیں اور خدا کے اتارے ہوئے پر ایمان اللّٰہ وھم یبکون۔ ربّنا انّنا سمعنا منادیًا و وگریہ می کنند ومیگویند اے پروردگار ما شنیدہ ایم ندا کنندہ را و لاتے ہیں اور روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم نے پکارنے والے کو سنا عرفنا ھادیًا فاغفرلنا ذنوبنا انا تائبون۔ شناختیم رہنمائے را پس گناہان مارا بیامرز ماتوبہ مے کنیم اور رہنما کو پہچان لیا پس ہمارے گناہوں کو بخش دے ہم توبہ کرتے ہیں۔ و قال اللّٰہ لا تثریب علیکم الیوم ستغفر و خدا بگوید کہ امروز ہیچ سرزنش برشما نیست گناہان شما اورخدا کہتا ہے کہ آج تم پر کوئی تنبیہ نہیں تمہارے گناہ