ان ینزل نبیّکم المصطفٰی ۔ اما قرء تم قولہٗ تعالٰی
کہ نبی ماصلے علیہ اللہ علیہ وسلم را فرود آوردے آیا نخواندی قول خدا تعالیٰ را کہ فرمودہ است
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان سے اتارتا۔ خدا نے جو فرمایا تم نے اب تک نہیں پڑھا
لواردنا ان نتّخذ لھوًا لا تخذناہ من لدنا یعنی
کہ اگر مالہوے یعنی پسرے می گرفتیم ہر آئینہ مے گرفتیم نزد خود یعنی
کہ اگر ہم بیٹا بناتے تو اپنے پاس سے بیٹا بناتے یعنی
محمّدًا فانظروا نظرًا ۔ ان السَّمٰوات والارض
محمد صلی اللہ علیہ وسلم را پس دریں آیت تدبّر کن آسمان و زمین
محمد صلے اللہ علیہ وسلم کو۔ اس آیت میں تدبّرکرو۔ زمین وآسمان
کانتا رتقًا فَفُتِقَتَا فی ھٰذا الزمان لیبتلی
ہر دو بستہ بودند پس دریں زمانہ ہر دو را بکشادند تا
دونوں بند تھے اس زمانہ میں دونوں کھل گئے تاک ہ
الصالحون والطالحون وکلٌّ بما عمل یجزٰی۔
نیکاں و بداں را امتحان کردہ آید و ہر گروہے حسب اعمال خود پاداش یابد
نیکوں اور بدوں کا امتحان ہو جائے اور ہر ایک گروہ اپنے اعمال کی جزا سزا پاوے
فاخرج اللّٰہ من الارض ماکان من الارض
پس خدا تعالیٰ از زمین چیزہائے زمین را بیرون آورد
پس خدا تعالیٰ نے کچھ چیزیں زمین کی زمین سے نکالیں
وانزل من السَّماء ماکان من السَّمٰوات العُلٰی۔
و ہرچہ از آسمان بود از آسمان فرود آورد
اور جو کچھ آسمان سے اتارنا تھا اتارا۔