قصصًا شتّٰی ۔ وايّ فائدۃٍ لکم فی حیات المسیح
و دیگر قصصہا مے تراشید وشما ر ا در زندگی مسیح علیہ السلام بجزایں کدام فائدہ
جھوٹے قصے تراشتے ہو اور مسیح علیہ السلام کی زندگی میں تم کو بجز اس کے کیا
ایھا النوکٰی ۔ من غیر انکم تنصرون بہ النصارٰی ۔
است کہ پادریان را مددے دہید
فائدہ ہے کہ پادریوں کو مدد دیتے ہو
افلا تنظرون الی الزمان وقد نزلت علیکم
و سوئے زمانہ نظر نمے کنید
اور زمانہ کی طرف نہیں نظر کرتے ہو
بلیۃٌ عظمٰی ۔ وتنصّرفوجٌ من قومکم واحبّاء کم
و نہ مے بینید کہ چہ قدر مسلماناں نصرانی شدہ اند
اور نہیں دیکھتے ہو کہ کس قدر مسلمان نصرانی ہوگئے
وھلکت البلاد والعباد۔ واھتزّعرش الرحمٰن
وچہ قدر بندگان خدا ہلاک گردیدہ و بلائے عظیم فرود آمدہ
اور کس قدر خدا کے بندے ہلاک ہوگئے۔ خدا کے بندوں پربڑی بلا اتری
لما نزل فقضٰی ما قضٰی ۔ ولو اراد اللّٰہ اَن
واگر خدا ہمیں ارادہ داشتے کہ
اگر خدا کا یہی ارادہ ہوتاکہ
ینزل احدًا من السَّمآء کما زعمتم لکان خیرًا لکم
کسے را از آسمان فرود آرد چنانکہ گمان شماست البتہ بہتر بود
کسی کو آسمان سے اتارتا جیسا کہ تمہارا گمان ہے تو بہتر یہ تھا کہ