وفتحت الطرق وزُوّجت بنفوسکم نفوس
و راہ ہاکشادہ و پر امن گشتہ و مردم ہائے ولایت ہا باہم متلاقی گشتہ
اور راستے کھل گئے اور ولایتوں کے لوگ آپس میں
بلادٍ قصوٰی ۔ وان الجبال نُسفت اکثرھا
و کوہ ہا از جا ہائے خود کندہ شدہ
ملنے لگے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہل گئے کہ
فما ترون فیھا عوجًا ولا امتًا ۔ وتُرِکت القلاص
پس ہیچ کجی وبلندی نماندہ و شترہا از سواری
کوئی اونچائی نچائی باقی نہ رہی اور اونٹ سواری
فلا یحمل علیھا ولا یُسعٰی ۔ فثبت ان زماننا
و بار برداری متروک شدہ پس ثابت شد کہ ایں زمانۂ ما
اور بار برداری سے متروک ہوگئے۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ زمانہ
ھٰذا ھو اٰخر الازمنۃ التی ذکرت فی القراٰن ط
ہماں آخری زمانہ است کہ ذکر آں در قرآن است
وہی آخری زمانہ ہے کہ جس کا ذکر قرآن میں ہے
وتَعَیَّنَ ان ھٰذا الوقت ھووقت اٰخر الخلفاء
و متعین شد کہ ایں وقت ہماں وقت است کہ در او خاتم خلفاء
اور مقرر ہوگیا کہ یہ وقت وہی وقت ہے کہ جس میں خاتم خلفاء
لِاُمّۃ نبیّنا خیرالورٰی ۔ وقد بلغ الثبوت کمالہٗ
مبعوث شدن ضروری بود وبہ تحقیق ثبوت ایں امر بکمال خود رسیدہ
کا مبعوث ہونا ضروری تھا اور اس امر کا ثبوت اپنے کمال کو پہنچ گیا