زماننا ھٰذا ھو اٰخرالازمنۃ کما کان لبنی اسرائیل ایں زمانہ ما زمانہ آخری است ہمچو آں زمانہ کہ زمانہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بود یہ ہمارا زمانہ آخری زمانہ ہے اس زمانے کی طرح جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمان عیسٰی۔ وان عیسٰی کان علمًا لساعۃ الیھود کہ برائے بنی اسرائیل زمانہ آخری بود وبہ تحقیق عیسیٰ علیہ السلام برائے ساعت تباہی یہود دلیلے بود بنی اسرائیل کے لئے آخری زمانہ تھا۔ بتحقیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں کی تباہی کی گھڑی و انا علمٌ للساعۃ التی تحشر الناس فیھا و و برائے قیامت دلیلے ہستم کے لئے ایک دلیل تھے اور میں قیامت کیلئے ایک دلیل ہوں تُحیٰی کل نفسٍ لتجزٰی ۔ وقد ظھر اکثر واکثر علامات ایں زمانہ اور بہت سے اس زمانہ کے علامات علاماتھا وذکرھا القراٰن ذکرًا ۔ وعُطّلت در قرآن شریف مرقوم شدہ اند وشتر مادہ ہا قرآن شریف میں مرقوم ہیں اور اونٹنیاں العشار ونُشرت الصحف والاسفار وجُمع معطل گردیدہ وکتاب ہائے بسیار در بسیار شائع شدہ و بیکار ہوگئیں اور کتابیں بے شمار شائع ہوئیں۔ اور القمر والشمس فی رمضان وفُجّرت البحار ماہ و مہر در رمضان کسوف گرفتہ و نہرہا جاری شدہ چاند سورج کو رمضان میں گرہن لگا اور نہریں جاری ہوئیں