لیبشر المؤمنین انّ الدعاء اجیب لبعضھم
تاکہ مومناں را بشارت دہد کہ دعائے ایشاں مستجاب است
تاکہ مومنوں کو بشارت دے کہ ان کی دعا قبول ہوئی۔
من الحضرۃ العلیا ۔ فایّ بیانٍ اظھر من ھٰذا
پس کدام بیان ازیں
اب کونسا بیان اس
البیان یا اولی النھٰی ۔ افشقّ علیکم ان یجيء
بیان روشن تر خواہد بود آیا برشما گران آمدہ است کہ
بیان سے زیادہ روشن ہوگا۔ کیا یہ بات تمہیں بُری معلوم ہوتی ہے کہ
مسیحکم منکم او اردتم ان تکذبوا وعد
مسیح شما ہم از درمیان شما بیاید یا مے خواہید کہ تکذیب کلام خدا کنید
تمہارا مسیح تم میں سے ہی ہووے یا چاہتے ہو کہ خدا کے کلام کو جھٹلاؤ۔
المولٰی ۔ یاقوم انما فتنتم من ربّکم فلا تنقلوا
اے قوم من دریں امتحان شما است از خدائے شما پس
اے میری قوم خدا کی طرف سے اس میں تمہارا امتحان ہے اب
الی الخطیات الخُطا ۔ وما قص علیکم اللّٰہ من
قدمہائے خود سوئے خطاہا مبرید و خدا تعالیٰ خبرے عیسیٰ علیہ السلام
خطا کی طرف قدم مت اٹھاؤ خدا نے کوئی خبر عیسیٰ علیہ السلام کی
نبأ عیسٰی ۔ الّا لیبشر ان مسیحًایأتی منکم
شمارا ندادہ است مگر بہمیں غرض کہ از شما نیز ہم مسیح خواہد آمد
تم کو نہیں دی ہے۔ مگر اس غرض سے کہ تم میں سے بھی ایک مسیح