القراٰن فأتوا بھا ان کنتم تتقون اللّٰہ ولا
منع می کند پس آں حجت مارا بنمائید اگر از خدا مے ترسید و پیروی
روکتی ہے وہ حجت ہم کو دکھلاؤ اگر خدا سے ڈرتے ہو اور
تتبعون الھوٰی ۔ وتعلمون ان الفاتحۃ اُمّ
حرص و ہوا نمے کنید ۔ نمی دانید کہ سورہ فاتحہ ام الکتاب
حرص و ہوا کی پیروی نہیں کرتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ سورہ فاتحہ ام القرآن
الکتاب وانھا تنطق بالحق وفیھا ذکر اخیار
است و ہرچہ حق است ہماں مے فرماید و درو ذکر آں نیکاں است
ہے جو کچھ حق ہے وہی فرماتی ہے اور اس میں ان نیکوں کا ذکر ہے
اُمّۃٍ خلت من قبل وذکر شرھم الذین غضب
کہ پیش از مسلماناں گذشتہ اند و ذکر آں بداں نیزہست کہ پیش از مسلماناں
کہ مسلمانوں سے پہلے گذرے ہیں اور ان بدوں کا بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں سے
اللّٰہ علیھم فی ھٰذہ الدنیا ۔وذکر الذین اختتمت
بودند و خدا برایشاں غضب کرد وذکر آناں نیز ہست کہ بر ایشاں
پہلے ہوئے ہیں اور خدا نے ان پر غضب کیا اور ان کا بھی ذکر ہے کہ جن پر
علیھم ھٰذہ السورۃ اعنی الضالّین ۔ وقد
ایں سورہ ختم کردہ شد یعنی فرقہ ضالین وشما
اس سورۃ کو ختم کیا گیا ہے یعنی فرقہ ضالین اور تم
اقررتم بانّھم النصارٰی ۔ واَخّرَ اللّٰہ ذکرھم
اقرار دارید کہ آں فرقہ ضالین نصاریٰ ہستند و خدا از ہمہ ذکر او شاں در آخر
اقرار کرتے ہو کہ وہ فرقہ ضالین نصاریٰ ہی ہیں اور خدا نے سب سے بعد اس سورۃ