الحَکَمُ من اللّٰہ ولاحُکم الّا حکمہ الاجلٰی ۔ اولم فیصلہ کنندہ از خدا تعالیٰ است وحکم حکم اوست آیا خدا کی طرف سے فیصلہ کرنے والا ہے اور اسی کا حکم حکم ہے کیا تکفکم اٰیۃ فلمّا توفّیتنی اوعندکم صحفٌ کفایت نمے کند شمارا آیت فلما توفیتنی یا نزد شما دیگر نسخہائے قرآن آیت فلما توفیتنی تم کو کفایت نہیں کرتی یا تمہارے پاس اور قرآن ہیں اخرٰی ۔ وان سورۃ النّور تکذبکم والفاتحۃ موجود ہستند و بہ تحقیق سورۃ نور تکذیب شما مے کند و سورہ فاتحہ اور سچ یہ ہے کہ سورہ نور تمہیں جھٹلاتی ہے اور سورہ فاتحہ تفتح علیکم باب الھدٰی ۔ فان اللّٰہ بدء فیھا برشما راہ ہدایت مے کشاید چنانچہ خدا تعالیٰ در سورۃ فاتحہ تمہارے لئے ہدایت کی راہ کھولتی ہے چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس میں من المبدء وجعل اٰخر الازمنۃ زمن الضالین از مبدء عالم ابتدا کردہ است و سلسلہ ایں دنیا را بر زمانہ ضالین ختم کردہ مبدء عالم سے ابتدا کیا ہے اور دنیا کے اس سلسلہ کوضالین کے زمانہ پر ختم کیا ہے وانھم ھم النصارٰی ۔کما جاء من نبیّنا المجتبٰی۔ و آں گروہ نصاریٰ است چنانچہ در احادیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آمدہ است اور وہ نصاریٰ کا گروہ ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ میں آیا ہے فاین فیھا ذکر دجّالکم فاَروناہ من القراٰن پس کجاست ذکر دجال شما در سورۃ فاتحہ پس بنمائید مارا از قرآن اب بتاؤ تمہارے دجال کا ذکر سورۃ فاتحہ میں کہاں ہے اگر ہو تو قرآن میں ہمیں دکھلاؤ