وما روی عن خیر الوریٰ ۔ وقال اظلمھم اقتلوا
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمودہ بود و شخصے کہ ظالم تر ازہمہ بود او بہ نسبت من گفت
جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی اور ایک شخص جو سب سے بڑا ظالم تھا اس نے
ھٰذا الرجل انّی اخاف اَنْ یُّبدل دینکم او
کہ ایں شخص رابکشید کہ من مے ترسم کہ در دین شما خلل اندازد و ازو در
میری نسبت کہا کہ اس شخص کو قتل کرو کہ میں ڈرتا ہوں کہ تمہارے دین میں خلل ڈالے گا اور اس سے
یحطکم اذا علا ۔ یااھل الحسد والھوٰی ۔ویلکم
وجاہت ہائے شما فرق آید ۔ اے اہل حسد وہویٰ برشما واویلا است
تمہاری وجاہت و عزت میں فرق آجائے گا۔ اے حاسدو! تم پر افسوس ہے کہ تم
لم تؤثرون ھٰذہ الحیٰوۃ الدنیا ۔ وان القراٰن
آیا ایں ادنیٰ زندگی دنیا را اختیار مے کنید و بہ تحقیق قرآن
اس ذراسی دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو اور واقعی قرآن نے
یشھد انّ خاتم خلفاء ھٰذہ الامّۃ رجلٌ
گواہی دادہ است کہ خاتم الخلفاء ایں امت از ہمیں امت است۔
گواہی دی ہے کہ اس امت کا خاتم الخلفاء اسی امت میں سے ہے
من الاُمّۃ وان المسیح من الموتٰی ۔ ومن
و حضرت مسیح علیہ السلام وفات یافتہ اند و ازاں شخص
اور حضرت مسیح علیہ السلام وفات پاگئے ہیں اور اس شخص سے
اظلم ممن الذی عصی القراٰن وابٰی ۔ وھو
ظالم تر کیست کہ نافرمانی قرآن کرد و سرباز زد و ہماں
زیادہ ظالم کون ہے کہ قرآن کی نافرمانی کر کے روگردانی کرے حالانکہ وہ