وان الظن لا یغنی من الحقّ شیءًا ۔وقد علمتم
وظاہر است کہ محض گمان کردن قائم مقام یقین نمے شود و بہ تحقیق دانستہ اید
اور یہ ظاہر ہے کہ محض گمان قائم مقام یقین کے نہیں ہوتا اور بہ تحقیق تم نے جان لیا
ان القراٰن اھلکہٗ وتوفّٰی ۔ فبأیّ حدیثٍ تؤمنون
کہ قرآن عیسیٰ علیہ السلام را وفات دادہ است پس بعد از قرآن بکدام حدیث
کہ قرآن نے عیسیٰ علیہ السلام کو وفات دیدی ہے اب بعد قرآن کے کس حدیث پر
بعدہٗ وتکفرون بما انزل اللّٰہ واوحٰی ۔ا تترکون
ایمان خواہید آورد آیا برائے حدیث انکار قرآن خواہید کرد کہ از خدا تعالیٰ نازل شدہ است۔ آیا
ایمان لاؤ گے آیا حدیث کیلئے قرآن کا انکار کروگے کہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ کیا
الیقین لظنٍ اھلک قبلکم قومًا و اردٰی ۔ یا
برائے گمانے کہ قوم یہود را پیش از شما ہلاک کرد یقین را ترک خواہید کرد؟
اس گمان کے لئے جس نے تم سے پہلی قوم یہود کو ہلاک کیا یقین کو ترک کرو گے؟
حسرۃ علی الذین یقولون انا نحن العلماء ۔
کمال حسرت برعالمان ایں وقت است
اس وقت کے علماء پر بڑا افسوس ہے
انھم ما صاروا من انصاری بل صاروا اوّل
کہ او شاں انصار من نشدہ اند بلکہ پیش از ہمہ
کہ وہ میرے مددگار نہ ہوئے بلکہ سب سے پہلے
من اٰذٰی ۔ لیتمّوا نَبْأَ الرسول بِاَلْسنھم
مرا ایذا دادند تاکہ آں خبر را بز بانہائے خود با تمام رسانند
مجھے تکلیف دی تاکہ اس پیشگوئی کو اپنے مونہہ سے پورا کریں