ولا نفع لکم فی حیٰوتہٖ وللّٰہ فی موتہٖ مآرب عظمٰی ۔ و در زندگی اوشاں شمارا ہیچ نفع نیست و برائے خدا در موت ایشاں مقاصد عظیمہ ہستند اور ان کی زندگی میں تمہارا کچھ نفع نہیں ہے۔ مگر خدا کے لئے ان کی موت میں بڑے بڑے مقصد ہیں۔ أَلہٗ شرکۃٌ فی السّماء مع ربّنا فلا یبرح مقامہٗ آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام را در سکونت آسمان با خدا تعالیٰ شرکت است پس ازیں وجہ آسمان را کیا عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان میں سکونت رکھنا خدا تعالیٰ کے ساتھ شرکت ہے جو اس وجہ سے آسمان کو ولا یتدلّٰی۔ فلا تحاربوا اللّٰہ بجھلکم وصلّوا علٰی نمی گذاردو از آنجانقل مکان نمے کند۔ پس باخدا از جہل خود جنگ مکنید وبر پیغمبر خود نہیں چھوڑتے اور اس جگہ سے نقل مکان نہیں کرتے پس اپنی جہالت سے خدا کے ساتھ جنگ مت کرو اور خدا کے رسول نبیکم المصطفٰی ۔ وھو الوصلۃ بین اللّٰہ وخلقہٖ صلی اللہ علیہ وسلم درود بفرستید و ہماں وسیلہ است در خدا و مخلوق او صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو کہ وہ خدا اور مخلوق میں وسیلہ ہیں۔ وقاب قوسین او ادنٰی ۔ اسمعتم منی مالا ودریں ہر دو قوس ربوبیّت و عبودیّت وجود او واقع شدہ۔ آیا شنیدہ آید از من چیزے کہ اور ان دونوں قوس الوہیت اور عبودیت میں آپ کا وجود واقع ہے۔ آیا مجھ سے کبھی کوئی ایسی بات سنی ہے اسمعکم القراٰن او رأیتم عیسٰی فی السماء قرآن آں را نشنوانیدہ است یا عیسٰی علیہ السلام را دیدہ اید در آسمان نشستہ جو قرآن نے نہیں سنائی یا عیسٰی علیہ السلام کو آسمان میں دیکھ لیا ہے فکبر علیکم ان تُکَذِّبوا اعینکم اوظننتم ظنًّا پس شمارا گران آمد کہ آنچہ بچشم خود دیدہ اید انکار آں کنید یا ایں گمانے محض است جوتم کو گراں معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اپنی آنکھ سے دیکھ لیا ہے اس کا انکار کرو۔ یا یہ محض گمان ہے