وکَذّب من نطق بخلافہٖ و رویٰ ۔ فویلٌ للذی و تکذیب آں کسے خواہد کرد کہ بخلاف ایں روایتے کند پس واویلا ہست بر کسے اور اس کی وہ تکذیب کرے گا جو اس کے خلاف میں روایت کریگا۔ اس شخص پر افسوس ہے سمع ھٰذہ الدلائل ثم کَذَّب وابٰی ۔ ام کہ ایں دلائل را بشنود باز درپأ تکذیب رود چہ ایں کس کہ دلائل کو سنے اور پھر تکذیب کے پیچھے پیچھے ہولے۔ حسب ان اللّٰہ وعد وعدًا ثم اخلفہٗ او گمان می کند کہ خدا تعالیٰ وعدہ کردہ باز تخلف وعدہ نمود یا کیا یہ گمان کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ کر کے پھر خلاف وعدہ کیا یا نسی وعدہٗ کرجلٍ ھوکثیر الذھول ضعیف وعدہ خود را ہمچو کسے کہ نسیان برو غالب باشد فراموش کرد اپنے وعدہ کو ایسے شخص کی طرح بھول گیا جس پرنسیان غالب ہے القُویٰ ۔ سبحان اللّٰہ تقدس وتعالٰی ۔ فبأیّ خدا پاک است ازیں بدگمانی ہا پس بہ کدام ان بدگمانیوں سے خدا تعالیٰ کی ذات پاک ہے حدیثٍ م بعد کتاب اللّٰہ تؤمنون ۔ ا تترکون حدیث بعد کتاب اللہ ایمان خواہید آورد آیا یقین را قرآن کو چھوڑ کر کس حدیث پر ایمان لاؤ گے۔ کیا یقین کو الیقین بشکٍ سرٰی ۔ أَ تؤثرون الظنّ علٰی ما ازبہر شکے کہ در دل شما جاگرفتہ است ترک مے کنید آیا ظن را بہ یقین شک کے بدلے کہ تمہارے دلوں میں جم گیا ہے ترک کرتے ہو کیا ظن کو یقین کے بدلے