الالسن واستیقن القلوب وھدی اللّٰہ من انکار کردند و دلہا یقین کردہ اند وخدا ہر کرا خواست انکار کیا اور دلوں نے یقین کر لیا ہے خدا تعالیٰ جس کو چاہے ھدٰی ۔ ا تمارون فی امری وقد حصحص الحق ہدایت کرد آیا در امر من شک مے کنید وتحقیق ظاہر شد حق ہدایت کرے کیا تم میرے امر میں شک کرتے ہو حالانکہ جس قدر ثبوت کے ساتھ حق ظاہر ہونا وظھرت دلائل لا تُعَدُّ وتُحْصٰی ۔ الا تنظرون وچنداں دلائل بظہور آمدند کہ شمار نتواں کرد آیا نمے بینید چاہئے تھا وہ ظاہر ہوگیا۔ اور اس قدر دلائل ظاہر ہوئے کہ جو ان گنت ہیں۔ قرآن شریف کی طرف الی القراٰن وانہٗ یشھد لی ببیانٍ اوضح واجلٰی۔ سوئے قرآن شریف و آں بہ بیان واضح و روشن گواہی مے دہد تم نہیں دیکھتے کہ وہ واضح اور روشن بیان سے میری گواہی دیتا ہے۔ وھل اتاک حدیث خیر الوریٰ ۔ اذ قال کیف و آیا شمارا خبرے است از حدیث صلی اللہ علیہ وسلم کہ گفت چگونہ حال تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی بھی خبر ہے جبکہ آپ نے فرمایا کہ تمہارا انتم اذ نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم شما خواہد بود چوں ابن مریم درمیان شما فرود خواہد آمد واو امام شما است ہم از شما یعنی از قومے دیگر کیا حال ہوگا جب ابن مریم تم میں نازل ہوگا اور وہ تمہارا امام اور تم میں سے ہی ہوگا۔ یعنی تمہاری ہی ففکّر فی قولہٖ منکم وتفکر کمن ا تقٰی ۔ وانّ نیست پس فکر کن دریں قول کہ منکم است و ہمچو پرہیزگاراں درو غور نما و ایں حدیث قوم سے نہ کسی دوسری قوم سے۔ اس قول میں کہ منکم ہے فکر کر اور پرہیزگاروں کی طرح غور کر اور یہ