ھٰذا الحدیث یقص علیکم مابین لکم الفرقان ہماں بیان مے کند کہ قرآن شریف بیان فرمودہ است حدیث وہی بیان کرتی ہے جو قرآن شریف نے فرمایا ہے۔ فلا تُفرّقوا بین کتاب اللّٰہ وقول رسولہ المجتبٰی۔ پس در کتاب خدا و قول رسول خدا تفرقہ نیند ازید پس کتاب اللہ اور قول رسول اللہ میں تفرقہ نہ ڈالو۔ واتقوا اللّٰہ الذی ترجع الیہ کل نفسٍ فتجزٰی۔ و ازاں خدا بترسید کہ سوئے او واپس خواہید شد و پاداش اعمال خود خواہید یافت اور اس خدا سے ڈرو کہ اس کی طرف ایک دن جانا ہے اور اپنے اعمال کی جزا پانی ہے۔ الا تعلمون ماقال ربکم اعنی قولہٗ 3 آیا نمے دانید کہ خداوند ما چہ گفتہ است یعنی ایں قول خدا تعالیٰ کہ وعد اللہ الذین کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارے خدا نے کیا فرمایا۔ یعنی یہ کہ وعد اللّٰہ الذین اٰمنوا منکم تا اس کے قول 3 الٰی قولہٖ3 ۱؂۔ اٰمنوا منکم تا قول او لا یشرکون بی شیئااست۔ آیا دریں قول غور نمے کنید کہ صاف ہدایت مے فرماید کہ ہمہ خلیفہ ہا از لا یشرکون بی شیءًا تک۔ کیا اس فرمودہ میں تم غور نہیں کرتے کہ صاف صاف ہدایت فرماتا ہے کہ تمام خلیفے اسی فمالکم تشرکون باللّٰہ عیسٰی والدجال من ہمیں امت خواہند بود نہ کہ کسے از آسمان نازل شود۔ چہ شد شمارا کہ حضرت عیسیٰ و دجال را شریک خدا تعالیٰ امت میں سے ہونگے نہ کوئی ایک آسمان سے نازل ہوگا۔ تمہیں کیا ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ اور دجال کو خدا کا شریک غیر علمٍ من اللّٰہ ولا الھدٰی ۔ وتنتظرون مے گردانید وبراں ہیچ دلیلے نمے دارید و انتظار مے کنید کہ ٹھہراتے ہو کیا اس پر کوئی دلیل رکھتے ہو بلکہ ناحق انتظار کرتے ہو کہ