اورؔ کتاب ہسٹری آف افغانستان مصنفہ کرنیل جی بی میلسن۱ مطبوعہ لندن ۱۸۷۸ ء صفحہ ۳۹ میں لکھا ہے کہ عبد اللہ خان ہراتی اور فرانسیسی سیّاح فرائر یانی سر ولیم جونز (جو ایک بڑا متبحّر عالم علوم شرقیہ گذرا ہے) اس بات پر متفق ہیں کہ افغان قوم بنی اسرائیلی الاصل ہیں اور دس گم شدہ فرقوں کی اولاد ہیں۔ اور کتاب ہسٹری آف دی افغانس مصنفہ جی پی فرائر۲ (فرانسیسی) مترجمہ کپتان ولیم جے سی مطبوعہ لندن ۱۸۵۸ ء صفحہ ۱ میں لکھا ہے کہ شرقی مو ء رخوں کی کثرت رائے یہی ہے کہ افغان قوم بنی اسرائیل کے دس فرقوں کی اولاد سے ہیں اور یہی رائے افغانوں کی اپنی ہے۔ اور یہی موء رخ اس کتاب کے صفحہ۴ میں لکھتا ہے کہ افغانوں کے پاس اس بات کے ثبوت کے لئے ایک دلیل ہے جس کو وہ یوں پیش کرتے ہیں کہ جب نادر شاہ ہند کی فتح کے ارادہ سے پشاور پہنچا تو یوسف زئی قوم کے سرداروں نے اس کی خدمت میں ایک بائبل عبرانی زبان میں لکھی ہوئی پیش کی اور ایسا ہی کئی دوسری چیزیں پیش کیں جو ان کے خاندانوں میں اپنے قدیم مذہب کے رسوم ادا کرنے کے لئے محفوظ چلی آتی تھیں۔ اس کیمپ کے ساتھ یہودی بھی موجود تھے جب ان کو یہ چیزیں دکھلائی گئیں تو فوراً انہوں نے ان کو پہچان لیا اور پھر یہی مو ء رخ اپنی کتاب کے صفحہ چہارم کے بعد لکھتا ہے کہ عبداللہ خان ہراتی کی رائے میرے نزدیک بہت قابل اعتبار ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:۔ ملک طالوت (سال کے دو بیٹے تھے ایک کا نام افغان دوسرے کا نام جالوت۔ افغان اس قوم کا مورث اعلیٰ تھا۔ داؤد اور سلیمان کی حکومت کے بعد بنی اسرائیل میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور فرقے فرقے الگ الگ بن گئے۔ بخت نصر کے زمانہ تک یہی حالت رہی۔ بخت نصر نے چڑھائی کر کے ستر ہزار یہودی قتل کئے اور شہر تباہ کیا۔ اور باقی یہودیوں کو قید کر کے بابل لے گیا۔ اس مصیبت کے بعد افغان کی اولاد خوف کے مارے جُودِیَاسے ملک عرب میں بھاگ کر جا بسے اور بہت عرصہ تک یہاں آباد رہے۔ لیکن چونکہ پانی اور زمین کی قلت تھی