کہؔ افغان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بخت نصر نے ہیکل یروشلم کی تباہی کے بعد بامیان کے علاقہ میں انہیں جلا وطن کر کے بھیج دیا۔ (بامیان کا علاقہ غور کے متصل اور افعانستان میں واقع ہے) اور کتاب اے نیرے ٹو آف اے وزٹ ٹو غزنی کابل افغانستان۔ مصنفہ جی ٹی ویگن ایف جی ایس۱؂ مطبوعہ ۱۸۴۰ ؁ء کے صفحہ ۱۶۶ میں لکھا ہے کہ کتاب مجمع الانساب سے ملا خدا داد نے پڑھ کر سنایا کہ یعقوب کا بڑا بیٹا یہودا تھا اس کا بیٹا اُسرک تھا۔ اُسرک کا بیٹا اکنور ۔ اکنور کا بیٹا معالب۔ معالب کا فرلائی۔ فرلائی کا بیٹا قیس تھا۔ قیس کا بیٹا طالوت۔ طالوت کا ارمیاہ۔ اور ارمیاہ کا بیٹا افغان تھا اس کی اولاد قوم افغان ہے اور اسی کے نام پر افغان کا نام مشہور ہوا۔ افغان بخت نصر کا ہم عصر تھا اور بنی اسرائیل کہلاتا تھا اور اُس کے چالیس بیٹے تھے۔ اس کی چونتیسویں پشت میں دو ہزار برس بعد وہ قیس ہوا جو محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانہ میں تھا۔ اس سے چونسٹھ نسلیں ہو لیں۔ سلم نامی افغان کا سب سے بڑا بیٹا اپنے وطن شام سے ہجرت کر کے غور مشکوہ کے علاقہ میں جو ہرات کے قریب ہے آباد ہوا۔ اس کی اولاد افغانستان میں پھیل گئی۔ اور کتاب اے سا ئیکلو پیڈیا آف جیوگرافی مرتبہ جیمز برائیس۲؂ ایف جی ایس مطبوعہ لندن ۱۸۵۶ ؁ء کے صفحہ۱۱ میں لکھا ہے کہ افغان لوگ اپنا سلسلہ نسب سال بادشاہ اسرائیل سے ملاتے ہیں اور اپنا نام بنی اسرائیل رکھتے ہیں۔ الگزنڈر ۳؂ برنس کا قول ہے کہ افغان یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ وہ یہودی الاصل ہیں۔ شاہ بابل نے انہیں قید کر کے غور کے علاقہ میں لا بسایا جو کابل سے شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ لوگ ۶۲۲ ؁ء تک اپنے یہودی مذہب پر رہے۔ لیکن خالد بن عبد اللہ (غلطی سے ولید کی جگہ عبد اللہ لکھا ہوا ہے) نے اس قوم کے ایک سردار کی لڑکی سے بیاہ کر لیا اور اُن کو اس سال میں دین اسلام قبول کرایا۔