اور انسان اور حیوان کو تکلیف تھی اس لئے انہوں نے ہندوستان کی طرف چلے آنے کا ارادہ کیا۔ ابدالیوں کا ایک گروہ عرب میں پڑا رہا اور (حضرت) ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں ان کے ایک سردار نے ان کا رشتہ خالد بن ولید سے قائم کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ایران اہل عرب کے قبضہ میں آیا تو یہ قوم عرب سے نکل کر ایران کے علاقوں فارس اور کرمان میں جا بسے۔ اور حملہ چنگیزخان تک یہیں بستے رہے۔ اس کے مظالم کی تاب نہ لاکر ابدالی فرقہ مکران سندھ اور ملتان کے راستے ہندوستان پہنچا۔ لیکن یہاں انہیں چین نصیب نہ ہوا (آخر کار) وہ کوہ سلیمان پر جا ٹھہرے۔ باقی ماندہ ابدالی فرقے کے لوگ بھی یہاں جمع ہو گئے۔ ان کے چوبیس فرقے تھے جو افغان کی اولاد میں سے تھے جس کے تین بیٹے تھے جن کے نام سرابند (سرابان) ارکش (گرگشت) کرلن (بطان) ان میں ہر ایک کے آٹھ فرزند ہوئے جن کے نام پر چوبیس قبیلے ہوئے۔ ان کے نام مع قبائل یہ ہیں:۔ سرابند کے بیٹے قبائل کے نام گرگشت(ارکش) کے بیٹے قبائل کے نام ابدال ابدالی خلج خلجی غلزئی یوسف یوسف زئی کاکر کاکری بابور بابوری جمورین جمورینی وزیر وزیری ستوریان ستوریانی لوہان لوہانی پین پینی برچ برچی کس کسی خوگیان خوگیانی تکان تکانی شران شرانی نصر نصری