رعیت ؔ اور غلام ہیں۔ ڈاکٹر مور۱ کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ تاتاری قوم چوزن۲ یہودی الاصل ہیں۔ اور ان میں اب تک یہودی مذہب کے قدیم آثار پائے جاتے ہیں چنانچہ وہ ختنہ کی رسم ادا کرتے ہیں۔ افغانوں میں یہ روایت ہے کہ وہ دس گم شدہ بنی اسرائیلی قبائل ہیں۔ بادشاہ بخت نصر۳ نے یروشلم کی تباہی کے بعد گرفتار کر کے غور کے ملک میں بسایا جو بامیان کے نزدیک ہے اور وہ خالد بن ولید کے آنے سے پہلے برابر یہودی مذہب کے پابند رہے۔
افغان شکل و شباہت میں ہر طرح سے یہود نظر آتے ہیں اور ان ہی کی طرح چھوٹا بھائی بڑے بھائی کی بیوہ سے شادی کرتا ہے۔ ایک فرانسیسی سیّاح فرائر۴ نامی جب ہرات کے علاقہ میں سے گذر رہا تھا تو اس نے لکھا ہے کہ اس علاقہ میں بنی اسرائیل بکثرت ہیں اور اپنے یہودی مذہب کے ارکان کے ادا کرنے کی پوری آزادی انہیں حاصل ہے۔ ربی بن یمین ساکن شہر ٹولیڈو (سپین) بارھویں صدی عیسوی میں گم شدہ قبیلوں کی تلاش میں گھر سے نکلا۔ اس کا بیان ہے کہ یہ یہودی لوگ چین ایران اور تبت میں آباد ہیں۔ جوزی فس جس نے ۹۳ ء میں یہودیوں کی قدیم تاریخ لکھی ہے اپنی گیارھویں کتاب میں عزرا نبی کے ساتھ قید سے واپس جانے والے یہودیوں کے بیان کے ضمن میں بیان کرتا ہے کہ دس قبیلے دریائے فرات کے اس پار اب تک آباد ہیں اور ان کی تعداد شمار سے باہر ہے۔ (دریائے فرات سے اس پار سے مراد فارس اور مشرقی علاقے ہیں) اور سینٹ جروم جو پانچویں صدی عیسوی میں گذرا ہے ہو سیع نبی کا ذکر کرتے ہوئے اس معاملہ کے ثبوت میں حاشیہ پر لکھتا ہے کہ اس دن سے (بنی اسرائیل کے) دس فرقے شاہ پارتھیا یعنی پارس کے ماتحت ہیں اور اب تک قید سے رہا نہیں کئے گئے۔ اور اسی کتاب کی جلد اول میں لکھا ہے کہ کونٹ جورن سٹرنا۵ اپنی کتاب کے صفحہ ۲۳۳، ۲۳۴ میں تحریر کرتا ہے