کیاؔ ۔ اور لفظ پہطان کی نسبت افغان مؤلّف یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ایک سریانی لفظ ہے جس کے معنی جہاز کا سُکّان ہے اور چونکہ نو مسلم قیس اپنی قوم کی رہنمائی کے لئے جہاز کے سُکّان کی طرح تھا اس لئے پہطان کا خطاب اس کو ملا۔
اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ کس زمانہ میں غور کے افغان آگے بڑھے اور علاقہ قندھار میں جو آج کل ان کا وطن ہے آبا د ہوئے۔ غالباً اسلام کی پہلی صدی میں ایسا ظہور میں آیا ۔ افغانوں کا قول ہے کہ قیس نے خالد ابن ولید کی لڑکی سے نکاح کیا اور اس سے اس کے ہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جن کا نام سرابان، پطان، اور گُرگشت ہیں۔ سرابان کے دو لڑکے تھے جن کا نام سچرج ُ ین اور کرش ُ ین ہیں۔ اور ان ہی کی اولاد افغان یعنی بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ ایشیا کوچک کے لوگ اور مغربی اسلامی موء رخ افغانوں کو سلیمانی کہتے ہیں۔ اور کتاب سا ئیکلو پیڈیا آف انڈیا ایسٹرن اینڈ سدرن ایشیا مصنفہ ای بیلفور جلد سوم۱ میں لکھا ہے کہ قوم یہود ایشیا کے وسط جنوب اور مشرق میں پھیلی ہوئی ہیں۔ پہلے زمانہ میں یہ لوگ ملک چین میں بکثرت آباد تھے اور مقام یہ چو(صدر مقام ضلع شو۲ ) ان کا معبد تھا۔ ڈاکٹر وولف ۳ جو بنی اسرائیل کے دس غائب شدہ فرقوں کی تلاش میں بہت مدت پھرتا رہا اس کی یہ رائے ہے کہ اگر افغان اولاد یعقوب میں سے ہیں تو وہ یہودا اور بن یمین قبیلوں میں سے ہیں۔ ایک اور روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی لوگ تاتار میں جلا وطن کر کے بھیجے گئے تھے اور بخارا۔ مرو اور خیوا کے متعلقہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ پرسٹر جان۴ شہنشاہ تاتار نے ایک خط میں جو بنام الکسیس کام نی نس شہنشاہ قسطنطنیہ ارسال کیا تھا اپنے ملک تاتار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس دریا (آموں)کے پار بنی اسرائیل کے دس قبیلے ہیں جو اگرچہ اپنے بادشاہ کے ماتحت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن فی الحقیقت ہماری