ایک ؔ انگریز اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ جب میں کشمیر میں تھا تو میں نے خیال کیا کہ میں ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہوں۔ اور کتاب دی ریسز آف افغانستان مصنفہ ایچ ڈبلیوبلیو سی ایس آئی مطبوعہ تھاکر سپنک اینڈ کو کلکتہ۱ میں لکھا ہے کہ افغان لوگ ملک سیریا سے آئے ہیں۔ بخت نصر نے انہیں قید کیا اور پرشیا اور میدیا کے علاقوں میں انہیں آباد کیا۔ ان مقامات سے کسی بعد کے زمانہ میں مشرق کی طرف نکل کر غور کے پہاڑی ملک میں جا بسے جہاں بنی اسرائیل کے نام سے مشہور تھے اس کے ثبوت میں ادریس نبی کی پیشگوئی ہے کہ دس قومیں اسرائیل کی جو قید میں ماخوذ ہوئی تھیں۔ قید سے بھاگ کر ملک ارسارۃمیں پناہ گزین ہوئیں۔ اور وہ اسی ملک کا نام معلوم ہوتا ہے جسے آج کل ہزارہ کہتے ہیں اور جو علاقہ غور میں واقع ہے۔ طبقات ناصری جس میں چنگیز خان کی فتوحات ملک افغانستان کا ذکر ہے اس میں لکھا ہے کہ شنبیسی خاندان کے عہد میں یہاں ایک قوم آباد تھی جس کو بنی اسرائیل کہتے تھے اور بعض ان میں بڑے بڑے تاجر تھے۔ یہ لوگ ۶۲۲ ء میں جبکہ محمد یعنی اس زمانہ میں جبکہ سیدنا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے رسالت کا اعلان کیا ہرات کے مشرقی علاقہ میں آباد تھے ایک قریش سردار خالد ابن ولید نامی اُن کے پاس رسالت کی خبر لے کر آیا کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جھنڈے کے نیچے آئیں۔ پانچ چھ سردار منتخب ہو کر اس کے ساتھ ہوئے جن میں بڑا قیس تھا جس کا دوسرا نام کِش ہے۔ یہ لوگ مسلمان ہو کر اسلام کی راہ میں بڑی جان فشانی سے لڑے اور فتوحات حاصل کیں اور ان کی واپسی پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کو بہت تحفے دئیے اور ان پر برکت بھیجی اور پیشگوئی کی کہ اس قوم کو عروج حاصل ہوگا۔ اور بطور پیشگوئی فرمایا کہ ہمیشہ ان کے سردار مَلِکْ کے لقب سے مشہور ہوا کریں گے اور قیس کا نام عبد الرشید رکھ دیا اور پہطان کے لقب سے سرافراز
The races of Afganistan by, H.W.Bellows (Thacker&Spink&co.Calcutta.)