کی طرف بھیجے گئے تھے تو پھر بغیر اس کے کہ وہ اُن بھیڑوں کے پیچھے جاتے اور ان کو تلاش کرتے اور ان کو طریق نجات بتلاتے یونہی دنیا سے کوچ کر جانا ایسا تھا کہ جیسا کہ ایک شخص ایک بادشاہ کی طرف سے مامور ہو کہ فلاں بیابانی قوم میں جاکر ایک کنواں کھودے اور اس کنویں سے ان کو پانی پلاوے۔ لیکن یہ شخص کسی دوسرے مقام میں تین چار برس رہ کر واپس چلا جائے اور اس قوم کی تلاش میں ایک قدم بھی نہ اٹھائے تو کیا اس نے بادشاہ کے حکم کے موافق تعمیل کی؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ اس نے محض اپنی آرام طلبی کی وجہ سے اس قوم کی کچھ پرواہ نہ کی۔ ہاں اگر یہ سوال ہو کہ کیونکر اور کس دلیل سے معلوم ہوا کہ اسرائیل کی دس قومیں اس ملک میں آگئی تھیں تو اس کے جواب میں ایسے بدیہی ثبوت موجود ہیں کہ ان میں ایک معمولی اور موٹی عقل بھی شبہ نہیں کرسکتی۔ کیونکہ یہ نہایت مشہور واقعات ہیں کہ بعض قومیں مثلاً افغان اور کشمیر کے قدیم باشندے دراصل بنی اسرائیل ہیں مثلًا الائی کوہستان جو ضلع ہزارہ سے دو تین دن کے راستہ پر واقع ہے اس کے باشندے قدیم سے اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ ایسا ہی اس ملک میں ایک دوسرا پہاڑ ہے جس کو کالا ڈاکہ کہتے ہیں اس کے باشندے بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم بنی اسرائیل ہیں اور خاص ضلع ہزارہ میں بھی ایک قوم ہے جو اسرائیلی خاندان سے اپنے تئیں سمجھتے ہیں ایسا ہی چلاس اور کابل کے درمیان جو پہاڑ ہیں جنوب کی طرف شرقاً و غرباً ان کے باشندے بھی اپنے تئیں بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔ اور کشمیر کے باشندوں کی نسبت وہ رائے نہایت صحیح ثابت ہوتی ہے جو ڈاکٹر برنیرنے اپنی کتاب سیر و سیاحت کشمیر۱؂ کے دوسرے حصے میں بعض محقق انگریزوں کے حوالہ سے لکھی ہے۔ یعنی یہ کہ بلاشبہ کشمیری لوگ بنی اسرائیل ہیں اور ان کے لباس اور چہرے اور بعض رسوم قطعی طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی خاندان میں سے ہیں۔ اور فارسٹر نامی