دلؔ شکنی کرنے کے دونوں قصے بھی باہم ایک گونہ مشابہت رکھتے ہیں لیکن ہم ایسے قصے جو عام اخلاقی حالت سے بھی گرے ہوئے ہیں نہ مسیح کی طرف منسوب کر سکتے ہیں اور نہ گوتم بُدھ کی طرف۔ اگر بُدھ کو اپنی عورت سے محبت نہیں تھی تو کیا اس عاجز عورت اور شیرخوار بچہ پر رحم بھی نہیں تھا۔ یہ ایسی بد اخلاقی ہے کہ صدہا برس کے گذشتہ رفتہ قصے کو سن کر اب ہمیں درد پہنچ رہا ہے کہ کیوں اس نے ایسا کیا۔ انسان کی بدی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی عورت کی ہمدردی سے لاپروا ہو بجز اس صورت کے کہ وہ عورت نیک چلن اور تابع حکم نہ رہے اور یا بے دین اور بدخواہ اور دشمن جان ہوجائے۔ سو ہم ایسی گندی کارروائی بُدھ کی طرف منسوب نہیں کر سکتے جو خود اس کی نصیحتوں کے بھی برخلاف ہے۔ لہٰذا اس قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ غلط ہے۔ اور درحقیقت راحولتا سے مراد حضرت عیسیٰ ہیں جن کا نام روح اللہ ہے اورروح اللہ کا لفظ عبرانی زبان میں راحولتا سے بہت مشابہ ہوجاتا ہے اور راحولتا یعنی روح اللہ کو بُدھ کا شاگرد اسی وجہ سے قرار دیا گیا ہے جس کا ذکر ابھی ہم کر چکے ہیں۔ یعنی مسیح جو بعد میں آکر بُدھ کے مشابہ تعلیم لایا۔ اس لئے بُدھ مذہب کے لوگوں نے اس تعلیم کا اصل منبع بُدھ کو قرار دے کر مسیح کو اس کا شاگرد قرار دے دیا۔ اور کچھ تعجب نہیں کہ بُدھ نے خداتعالیٰ سے الہام پاکر حضرت مسیح کو اپنا بیٹا بھی قرار دیا ہو۔ اور ایک بڑا قرینہ اس جگہ یہ ہے کہ اسی کتاب میں لکھا ہے کہ جب راحولتا کو اس کی والدہ سے علیحدہ کیا گیا تو ایک عورت جو بُدھ کی مرید تھی جس کا نام مگدالیانا تھا اس کام کے لئے درمیان میں ایلچی بنی تھی۔ اب دیکھو مگدالیانا کا نام درحقیقت مگدلینی سے بگاڑا ہوا ہے۔ اور مگدلینی ایک عورت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مرید تھی جس کا ذکر انجیل میں موجود ہے۔
یہ تمام شہادتیں جن کو ہم نے مجملاً لکھا ہے ہر ایک منصف کو اس نتیجہ تک پہنچاتی ہیں کہ ضرور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے تھے اور