دردؔ مند دوستوں کے دلوں کو دُکھایا اور عزیزوں کو زخمی کیا۔ مگر اب اندھیرا نہیں رہے گا۔ رات گذری،دن چڑھا۔ اور مبارک وہ جو اب محروم نہ رہے۔!! اور منجملہ ان شہادتوں کے جو بُدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں وہ شہادت ہے جو کتاب بُدھ ایزم مصنفہ اولڈن برگ صفحہ ۴۱۹ میں درج ہے۔ اس کتاب میں بحوالہ کتاب مہاواگا صفحہ ۵۴ فصل نمبر ۱ کے لکھا ہے کہ بُدھ کا ایک جانشین راحولتا نام بھی گذرا ہے کہ جو اس کا جان نثار شاگرد بلکہ بیٹا تھا۔ اب اس جگہ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ یہ راحولتا جو بُدھ مذہب کی کتابوں میں آیا ہے یہ روح اللہ کے نام کا بگاڑا ہوا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے۔ اور یہ قصہ کہ یہ راحولتا بُدھ کا بیٹا تھا جس کو وہ شیرخوارگی کی حالت میں چھوڑ کر پردیس میں چلا گیا تھا اور نیز اپنی بیوی کو سوتی ہوئی چھوڑ کر بغیر اس کی اطلاع اور ملاقات کے ہمیشہ کی جدائی کی نیت سے کسی اور ملک میں بھاگ گیا تھا یہ قصہ بالکل بیہودہ اور لغو اور بُدھ کی شان کے برخلاف معلوم ہوتا ہے۔ ایسا سخت دل اور ظالم طبع انسان جس نے اپنی عاجز عورت پر کچھ رحم نہ کیا اور اس کو سوتے ہوئے چھوڑ کر بغیر اس کے کہ اس کو کسی قسم کی تسلی دیتایونہی چوروں کی طرح بھاگ گیا اور زوجیت کے حقوق کو قطعاً فراموش کردیا نہ اسے طلاق دی اور نہ اس سے اس قدر ناپیدا کنار سفر کی اجازت لی اور یکدفعہ غائب ہوجانے سے اس کے دل کو سخت صدمہ پہنچایا اور سخت ایذا دی اور پھر ایک خط بھی اس کی طرف روانہ نہ کیا یہاں تک کہ بیٹا جوان ہوگیا اور نہ بیٹے کے ایام شیرخوارگی پر رحم کیا ایسا شخص کبھی راستباز نہیں ہوسکتا جس نے اپنی اس اخلاقی تعلیم کا بھی کچھ پاس نہ کیا جس کو وہ اپنے شاگردوں کو سکھلاتا تھا۔ ہمارا کانشنس اس کو ایسا ہی قبول نہیں کرسکتا جیسا کہ انجیلوں کے اس قصہ کو کہ مسیح نے ایک مرتبہ ماں کے آنے اور اس کے بلانے کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی تھی بلکہ ایسے الفاظ منہ پر لایا تھا جس میں ماں کی بے عزتی تھی۔ پس اگرچہ بیوی اور ماں کی