قطع ؔ نظر ان تمام روشن شہادتوں کے بُدھ مذہب اور عیسائی مذہب میں تعلیم اور رسوم کے لحاظ سے جس قدر باہمی تعلقات ہیں بالخصوص تبت کے حصہ میں یہ امر ایسا نہیں ہے کہ ایک دانشمند سہل انگاری سے اس کو دیکھے۔ بلکہ یہ مشابہت یہاں تک حیرت انگیز ہے کہ اکثر محقق عیسائیوں کا یہ خیال ہے کہ بُدھ مذہب مشرق کا عیسائی مذہب ہے اور عیسائی مذہب کو مغرب کا بُدھ مذہب کہہ سکتے ہیں۔ دیکھو کس قدر عجیب بات ہے کہ جیسے مسیح نے کہا کہ میں نور ہوں میں راہ ہدایت ہوں یہی بُدھ نے بھی کہا ہے۔ اور انجیلوں میں مسیح کا نام نجات دہندہ ہے بُدھ نے بھی اپنا نام منجّی ظاہر کیا ہے۔ دیکھو للتاوسترااور انجیل میں مسیح کی پیدائش بغیر باپ کے بیان کی گئی ہے ایسا ہی بُدھ کے سوانح میں ہے کہ دراصل وہ بغیر باپ کے پیدا ہوا تھا گو بظاہر حضرت مسیح کے باپ یوسف کی طرح اس کا بھی باپ تھا۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بُدھ کی پیدائش کے وقت ایک ستارہ نکلا تھا۔ اور سلیمان کا قصہ جو اس نے حکم دیا تھا کہ اس بچے کو آدھا آدھا کر کے ان دونوں عورتوں کو دو کہ لے لیں۔ یہ قصہ بُدھ کی جاتکا میں بھی پایا جاتا ہے اس سے سمجھ آتا ہے کہ علاوہ اس کے کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس ملک میں تشریف لائے اس ملک کے یہود جو اس ملک میں آگئے تھے ان کے تعلقات بھی بُدھ مذہب سے ہوگئے تھے اور بُدھ مذہب کی کتابوں میں جو طریق پیدائش دنیا لکھا ہے وہ بھی توریت کے بیان سے بہت ملتا ہے اور جیسا کہ توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کو عورتوں پر ایک درجہ فوقیت ہے ایسا ہی بُدھ مذہب کے رو سے ایک جوگی مرد ایک جوگی عورت سے درجہ میں زیادہ سمجھا جاتا ہے۔ ہاں بُدھ تناسخ کا قائل ہے مگر اس کا تناسخ انجیل کی تعلیم سے مخالف نہیں ہے۔ اس کے نزدیک تناسخ تین قسم پر ہے۔ (۱) اول یہ کہ ایک مرنے والے شخص کی عقدِہمت اوراعمال کا نتیجہ تقاضا کرتا ہے کہ ایک اور جسم پیدا ہو۔ (۲)دوسری وہ قسم جس کو تبت والوں نے اپنے لاموں میں مانا ہے۔ یعنی یہ کہ کسی