دلالت ؔ کرتے تھے کہ اس کے شاگرد متیّا کو پائیں گے۔ اب کتاب مذکور کے اس بیان سے بخوبی یہ بات دلی یقین کو پیدا کرتی ہے کہ خدا نے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دونوں طرف سے اسباب پیدا کردئیے تھے یعنی ایک طرف تو حضرت مسیح بوجہ اپنے اس نام کے جو پیدائش باب ۳ آیت ۱۰ سے سمجھا جاتا ہے۔ یعنی آسف جس کا ترجمہ ہے جماعت کو اکٹھا کرنے والا یہ ضروری تھا کہ اس ملک کی طرف آتے جس میں یہودی آکر آباد ہوئے تھے۔ اور دوسری طرف یہ بھی ضروری تھا کہ حسب منشاء بُدھ کی پیشگوئی کے بُدھ کے معتقد آپ کو دیکھتے اور آپ سے فیض اٹھاتے۔ سوان دونوں باتوں کو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے یقیناًسمجھ میں آتا ہے کہ ضرور حضرت مسیح علیہ السلام تبت کی طرف تشریف لے گئے تھے اور خود جس قدر تبت کے بُدھ مذہب میں عیسائی تعلیم اور رسوم دخل کر گئے ہیں اِس قدر گہرا دخل اس بات کو چاہتا ہے کہ حضرت مسیح ان لوگوں کو ملے ہوں اور بُدھ مذہب کے سرگرم مریدوں کا ان کی ملاقات کے لئے ہمیشہ منتظر ہونا جیسا کہ بُدھ کی کتابوں میں اب تک لکھا ہوا موجود ہے بلند آواز سے پکار رہا ہے کہ یہ انتظار شدید حضرت مسیح کے ان کے اس ملک میں آنے کے لئے پیش خیمہ تھا۔ اور دونوں امور متذکرہ بالا کے بعد کسی منصف مزاج کو اس بات کی حاجت نہیں رہتی کہ وہ بُدھ مذہب کی ایسی کتابوں کو تلاش کرے جن میں لکھا ہوا ہو کہ حضرت مسیح تبت کے ملک میں آئے تھے۔ کیونکہ جبکہ بُدھ کی پیشگوئی کے مطابق آنے کی انتظار شدید تھی تو وہ پیشگوئی اپنی کشش سے حضرت مسیح کو ضرور تبت کی طرف کھینچ لائی ہوگی۔ اور یاد رکھنا چاہئیے کہ متیّا کا نام جو بُدھ کی کتابوں میں جابجا مذکور ہے بلا شبہ وہ مسیحا ہے۔ کتاب تبت تاتار منگولیا بائی ایچ ٹی پرنسب ۱؂ کے صفحہ ۱۴ میں متیّا بُدھ کی نسبت جو دراصل مسیحا ہے یہ لکھا ہے کہ جو حالات ان پہلے مشنریوں (عیسائی واعظوں) نے تبت میں جاکر