اپنی ؔ آنکھوں سے دیکھے اور کانوں سے سنے۔ ان حالات پر غور کرنے سے وہ اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ لاموں کی قدیم کتب میں عیسائی مذہب کے آثار موجود ہیں۔ اور پھر اسی صفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ متقدمین یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کے حواری ابھی زندہ ہی تھے کہ جبکہ عیسائی دین کی تبلیغ اس جگہ پہنچ گئی تھی اور پھر ۱۷۱ صفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وقت عام انتظار ایک بڑے منجّی کے پیدا ہونے کی لگ رہی تھی جس کا ذکر ٹے سے ٹس نے اس طرح پر کیا ہے کہ اس انتظار کا مدار نہ صرف یہودی تھے بلکہ خود بُدھ مذہب نے ہی اس انتظار کی بنیاد ڈالی تھی یعنی اس ملک میں متیّا کے آنے کی پیشگوئی کی تھی۔ اور پھر اس کتاب انگریزی پر مصنف نے ایک نوٹ لکھا ہے اس کی یہ عبارت ہے۔ کتاب پتاکتیان اور اتھا کتھا میں ایک اور بُدھ کے نزول کی پیشگوئی بڑی واضح طور پر درج ہے جس کا ظہور گوتم یا ساکھی مُنی سے ایک ہزار سال بعد لکھا گیا ہے۔ گوتما بیان کرتا ہے کہ میں پچیسواں بُدھ ہوں۔ اور بگوا متیّا نے ابھی آنا ہے یعنی میرے بعد اس ملک میں وہ آئے گا جس کا نام متیّا ہوگا اور وہ سفید رنگ ہوگا۔ پھر آگے وہ انگریز مصنف لکھتا ہے کہ متیّا کے نام کو مسیحا سے حیرت انگیز مشابہت ہے۔ غرض اس پیشگوئی میں گوتم بُدھ نے صاف طور پر اقرار کردیا ہے کہ اس کے ملک میں اور اس کی قوم میں اور اس پر ایمان لانے والوں میں مسیحا آنے والا ہے یہی وجہ تھی کہ اس کے مذہب کے لوگ ہمیشہ اس انتظار میں تھے کہ ان کے ملک میں مسیحا آئے گا۔ اور بُدھ نے اپنی پیشگوئی میں اس آنے والے بُدھ کا نام بگوا متیّا اس لئے رکھا کہ بگوا سنسکرت زبان میں سفید کو کہتے ہیں۔ اور حضرت مسیح چونکہ بلاد شام کے رہنے والے تھے اس لئے وہ بگوا یعنی سفید رنگ تھے۔ جس ملک میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی یعنی مَگَدھ کا ملک جہاں راجہ گریہا واقع تھا اس ملک کے لوگ