نہیں ؔ رہے گا۔ اور جس وقت ان تعلیموں اور اصولوں کا زوال ہوگا۔ تب متیّا اس ملک میں آکر دوبارہ ان اخلاقی تعلیموں کو دنیا میں قائم کرے گا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پانسو برس بعد بُدھ کے ہوئے ہیں اور جیسا کہ بُدھ نے اپنے مذہب کے زوال کی مدت مقرر کی تھی۔ ایسا ہی اس وقت بُدھ کا مذہب زوال کی حالت میں تھا۔ تب حضرت مسیح نے صلیب کے واقعہ سے نجات پاکر اس ملک کی طرف سفر کیا اور بُدھ مذہب والے اُن کو شناخت کر کے بڑی تعظیم سے پیش آئے۔ اور اس میں کوئی بھی شک نہیں کرسکتا کہ وہ اخلاقی تعلیمیں اور وہ روحانی طریقے جو بُدھ نے قائم کئے تھے حضرت مسیح کی تعلیم نے دوبارہ دنیا میں ان کو جنم دیا ہے۔ عیسائی مؤرخ اس بات کو مانتے ہیں کہ انجیل کی پہاڑی تعلیم اور دوسرے حصوں کی تعلیم جو اخلاقی امور پر مبنی ہے یہ تمام تعلیم وہی ہے جس کو گوتم بُدھ حضرت مسیح سے پانسو۵۰۰ برس پہلے دنیا میں رائج کرچکا تھا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بُدھ صرف اخلاقی تعلیموں کا سکھلانے والا نہیں تھا بلکہ وہ اور بھی بڑی بڑی سچائیوں کا سکھلانے والا تھا۔ اور ان کی رائے میں بُدھ کا نام جو ایشیا کا نور رکھا گیا وہ عین مناسب ہے۔ اب ۔۔۔بُدھ کی پیشگوئی کے موافق حضرت مسیح پانسو برس کے بعد ظاہر ہوئے اور حسبِ اقرار اکثر علماء عیسائیوں کے ان کی اخلاقی تعلیم بعینہٖ بُدھ کی تعلیم تھی تو اس میں کچھ شک نہیں ہو سکتا کہ وہ بُدھ کے رنگ پر ظہور فرما ہوئے تھے۔ اور کتاب اولڈن برگ میں بحوالہ بُدھ کی کتاب لکاّوتی ستتا کے لکھا ہے کہ بُدھ کے معتقد آئندہ زمانہ کی امید پر ہمیشہ اپنے تئیں تسلی دیتے تھے کہ وہ متیّاکے شاگرد بن کر نجات کی خوشحالی حاصل کریں گے یعنی ان کو یقین تھا کہ متیّا ان میں آئے گا اور وہ اس کے ذریعہ سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ جن لفظوں میں بُدھ نے ان کو متیّا کی امید دی تھی وہ لفظ صریح