مشاؔ بہ ہے اور بُدھ ازم کی کتاب کے صفحہ ۴۵ میں لکھا ہے کہ ’’ بُدھ کی اخلاقی تعلیم اور عیسائیوں کی اخلاقی تعلیم میں بڑی بھاری مشابہت ہے‘‘۔ میں اس کو مانتا ہوں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ وہ دونوں ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا سے محبت نہ کرو۔ روپیہ سے محبت نہ کرو۔ دشمنوں سے دشمنی مت کرو۔ بُرے اور ناپاک کام مت کرو۔ بدی پر نیکی کے ذریعہ سے غالب آؤ۔ اور دوسروں سے وہ سلوک کرو جو تم چاہتے ہو کہ وے تم سے کریں۔ یہ اس قدر انجیلی تعلیم اور بُدھ کی تعلیم میں مشابہت ہے کہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔
بُدھ مذہب کی کتابوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گوتم بُدھ نے ایک اور آنے والے بُدھ کی نسبت پیشگوئی کی تھی جس کا نام متیّا بیان کیا تھا۔ یہ پیشگوئی بُدھ کی کتاب لگّاوتی سُتَتا میں ہے جس کا حوالہ کتاب اولڈن برگ صفحہ ۱۱۴۲ میں دیا گیا ہے۔ اس پیشگوئی کی عبارت یہ ہے ’’متیّا لاکھوں مریدوں کا پیشوا ہوگا جیسا کہ میں اب سینکڑوں کا ہوں‘‘۔ اس جگہ یاد رہے کہ جو لفظ عبرانی میں مشیحاہے وہی پالی زبان میں متیّا کر کے بولا گیا ہے۔ یہ تو ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک زبان کا لفظ دوسری زبان میںآتا ہے تو اس میں کچھ تغیر ہوجاتا ہے چنانچہ انگریزی لفظ بھی دوسری زبان میں آکر تغیر پا جاتا ہے جیسا کہ نظیر کے طور پر میکسمولر۲ صاحب ایک فہرست میں جو کتاب سیکرڈ (بکس )آف دی ایسٹ جلدنمبر۳۱۱ کے ساتھ شامل کی گئی ہے صفحہ ۳۱۸ میں لکھتا ہے کہ ٹی ایچ انگریزی زبان کا جو تھ کی آواز رکھتا ہے فارسی اور عربی زبانوں میں ث ہوجاتا ہے یعنی پڑھنے میں ث یا س کی آواز دیتا ہے۔ سو ان تغیرات پر نظر رکھ کر ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ مسیحا کا لفظ پالی زبان میں آکر متیّا بن گیا۔ یعنی وہ آنے والا متیّا جس کی بُدھ نے پیشگوئی کی تھی وہ درحقیقت مسیح ہے اور کوئی نہیں۔ اس بات پر بڑا پختہ قرینہ یہ ہے کہ بُدھ نے یہ پیشگوئی بھی کی تھی کہ جس مذہب کی اس نے بنیاد رکھی ہے وہ زمین پر پانچ سو برس سے زیادہ قائم
1.Buddha by Dr. Herman Oldenberg.pp.142 2. Max Muller
3. Sacred Books of the East